رسائی کے لنکس

logo-print

کیا ایٹم بم بنانے کا کوئی فائدہ ہوا؟


جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت والا میزائل شاہین تھری (فائل فوٹو)

بیس سال قبل 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں جوہری دھماکے کر کے پاکستان دنیا کی ساتویں جوہری ریاست کے طور پر سامنے آیا تھا۔

پاکستان نے پیر کو اپنے پہلے جوہری تجربات کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ، عالمی امن اور اسٹریٹیجک استحکام کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

بیس سال قبل 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں جوہری دھماکے کر کے پاکستان دنیا کی ساتویں جوہری ریاست کے طور پر سامنے آیا تھا۔

پیر کو ان دھماکوں کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیتوں کے استعمال میں انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور وہ کم سے کم دفاعی صلاحیت کے اصولوں پر کاربند ہے جس سے "خطے میں دفاعی توازن برقرار ہے۔"

قبل ازیں اتوار کو رات گئے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل نے دعویٰ کیا تھا کہ پڑوسی ملک بھارت کی طرف سے "مخاصمانہ پوزیشن" کے باعث پاکستان کو مجبوراً 1998ء میں جوہری تجربات کرنا پڑے تھے۔

پاکستان کے جوہری تجربات سے چند روز قبل ہی بھارت نے جوہری تجربات کیے تھے اور پاکستان کا موقف رہا ہے کہ اس نے جوہری تجربات کا فیصلہ بھارت کے اقدام کے جواب میں کیا تھا۔

جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد گو کہ پاکستان اس موقف کو دہراتا آیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ان ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیار اور قوائد و ضوابط کی پاسداری کر رہا ہے، لیکن خاص طور پر مغرب کی طرف سے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق شکوک و شہبات کا اظہار تواتر سے کیا جاتا رہا ہے۔

جوہری طبعیات کے ماہر پروفیسر پرویز ہودبھائی کے خیال میں پاکستان نے بھی جوہری تنصیبات کے لیے ویسے ہی حفاظتی انتظامات کر رکھے ہوں گے جیسے کہ دنیا کے دیگر ممالک نے کیے ہیں لیکن پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ایک طویل عرصے تک پاکستان میں دہشت گردی ہوتی رہی ہے اور دہشت گرد متعدد بار عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر 2004ء میں پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے جوہری ساز و سامان اور معلومات دیگر ملکوں کو فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد بین الاقوامی برادری پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق عدم اطمینان کا شکار ہوئی۔

تاہم پاکستان کی سول و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کا نظام پوری طرح سے محفوظ ہے اور اس کے لیے ایک پورا کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان ایک عرصے سے "نیوکلیئر سپلائرز گروپ" کی رکنیت کے لیے کوشاں ہے اور 2016ء میں اس نے باضابطہ طور پر اس کے لیے درخواست بھی جمع کرائی تھی، لیکن تاحال اس ضمن میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

ہمسایہ ایٹمی قوت بھارت بھی اس گروپ کا تاحال حصہ نہیں ہے لیکن اس تنظیم کی رکنیت کے لیے اسے امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

دونوں ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی توثیق بھی نہیں کر رکھی۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں 48 ممالک شامل ہیں اور یہ تنظیم جوہری مواد، آلات اور ٹیکنالوجی کی تجارت کو کنٹرول کرتی ہے تاکہ کوئی ملک غیر قانونی طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ان آلات کو استعمال نہ کرے اور جوہری توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جائے۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کر لینے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور اپنے دفاع کو مؤثر بنانے میں مدد ملی ہے۔

لیکن پروفیسر ہودبھائی کے خیال میں جوہری ہتھیاروں سے پاکستان کوئی زیادہ مستحکم نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے جنگ کا خطرہ کم ہوا۔ لیکن ان کے بقول "یہ ضرور ہے کہ اس بم کے ہوتے ہوئے جنگ نہیں ہوئی۔"

ان کے خیال میں پاکستان کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے جو فوائد حاصل ہونے تھے شاید وہ پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے۔

"پاکستان نے سوچا تھا کہ اس کے بڑے فائدے ہوں گے۔ کشمیر کا مسئلہ ایٹم بم سے حل ہو جائے گا۔۔۔ ساری دنیا میں ہمارا اتنا رتبہ ہو جائے گا سارے اسلامی ملک ہماری طرف دیکھیں گے۔ مگر یہ ساری باتیں میرے خیال میں کہیں پہنچی نہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG