رسائی کے لنکس

عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے پاک امریکہ باہمی روابط بڑھانے پر زور


فائل فوٹو

امریکہ کی طرف سے پاکستان پر اپنے ہاں دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا اصرار اور اس دعوے کا پاکستان کی طرف سے استرداد بدستور اپنی جگہ موجود ہے اور مبصرین کے خیال میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں لہذا یہ موجودہ تناؤ زیادہ دیر تک برقرار رہنا سودمند نہیں ہو گا اور اس میں بہتری کے لیے بات چیت کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔

منگل کو نائب امریکی وزیر خارجہ جان سلیوان نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران جہاں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا وہیں ان کے بقول اس ملک کو اب بھی اپنے ہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاکستان واشنگٹن کے مطالبات پر عمل کر رہا ہے۔

گو کہ پاکستان کی طرف سے امریکی عہدیدار کے اس تازہ بیان پر سرکاری طور پر تو کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن اس کی سیاسی و عسکری قیادت ایسے ہی امریکی مطالبات پر یہ موقف اپناتی رہی ہے کہ پاکستان نے اپنے ہاں دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے منظم ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سلامتی کے امور کے تجزیہ کار چودھری نعمان ظفر کے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد تاریخی پس منظر کا حامل ہے جو ان کے بقول افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت اور پھر اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے بعد سے شروع ہوا جس میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ کمی کی بجائے اضافہ ہوا۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کامیابیوں کو موثر طریقے سے بین الاقوامی برادری میں پیش کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتا۔

"اس وقت پاکستان کو ایک سنجیدہ صورتحال ان (بیرونی دنیا) کے سامنے پیش کرنی چاہیے کہ جو درپردہ جنگ لڑنے کا جو سسٹم تھا وہ میرے حساب سے ختم ہو چکا ہے اور ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اگر ہم اس کو اور بڑھائیں گے تو پاکستان کے مشکلات اور بڑھ جائیں گی ہم اکیلے ہو سکتے ہیں، دیکھیں روس اور چین پاکستان کے موقف کو سمجھ رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بین الاقوامی برادری خاص طور پر مغربی ممالک میں اپنے موقف کی تائید کو بڑھانا ہے تا کہ وہ بھی کہیں کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک اہم ملک ہے، ہمیں ان کے سامنے اپنی مشکلات رکھنی چاہیئں۔"

بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر طلعت وزارت امریکی مطالبات کو بے جا تصور کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پاکستان کو ان مطالبات پر دھیان دینے کی بجائے اپنے ملک میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

"دیکھیے 80 کی دہائی ہماری افغان جنگ میں نکل گئی پھر 90 اور اس کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں وقت ضائع ہو گیا اب ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں بچا اب اگر ہم اپنے لوگوں کی خوشحالی کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو ہمارا ملک کو 80 کی دہائی سے جنگوں میں پھنسا ہوا ہے وہ نکل نہیں سکے گا۔

لیکن تجزیہ کار نعمان ظفر کے خیال میں عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور بات چیت کے عمل سے ان کے نزدیک کسی بھی تعطل کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

"میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اعتماد کے اس فقدان کو کم کیا جائے اور دیکھیں مل کر بیٹھیں گے تو یہ سب کچھ ہو گا۔"

دریں اثنا پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں بدھ کو راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈرز اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور خطے کے امن کے لیے برسوں سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے حاصل کردہ نتائج کو مستحکم بنایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG