رسائی کے لنکس

logo-print

سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اطلاق دوطرفہ ہو گا: پاکستان


ترجمان کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے لیکن اُنھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

پاکستان نے کہا کہ امریکہ میں اس کے سفارت کاروں کی نقل و حرکت ایک خاص حد تک محدود کیے جانے کا اطلاق جمعہ، 11 مئی سے ہو رہا ہے اور اس سفری پابندی کا اطلاق پاکستان میں تعینات امریکہ سفارت کاروں پر بھی ہو گا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس طرح کی پابندیوں کا اطلاق دوطرفہ طور پر ہی ہوتا ہے۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے لیکن اُنھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

واضح رہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت ایک مخصوص حد تک محدود کرنے کے بارے میں واشنگٹن کے اقدامات کا اطلاق یکم مئی سے ہونا تھا لیکن بعد میں اسے 11 مئی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

نقل و حرکت کو محدود کرنے سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کے بعد امریکہ کے جس شہر میں بھی پاکستانی سفارتی عملہ تعینات ہو گا، وہ وہاں سے لگ بھگ 25 میل یا 40 کلومیٹر کے دائرے کے اندر سفر کرسکے گا اور اس سے باہر جانے کے لیے عملے کو امریکی حکام سے اجازت لینا ہو گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اُس کے سفارت کاروں کی ایک مخصوص حد سے باہر نقل و حرکت پر پہلے ہی پابندی ہے تاہم پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ ایسا سکیورٹی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور ان میں بہتری کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

جمعرات کو نیوز بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ سے تمام ہی معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مل کر کام کرنے سے متعلق مشترکہ راستہ تلاش کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت کی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG