رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی نامور ڈرامہ نگار حسینہ معین انتقال کر گئیں


فائل فوٹو

پاکستان کی نامور ڈرامہ و ناول نگار حسینہ معین جمعے کو کراچی میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کے لکھے گئے کئی ڈرامے آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔

حسینہ معین کے انتقال کی خبر سن کر ان کے چاہنے والے افسردہ ہو گئے ہیں جب کہ فن کاروں اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سینیٹر فیصل جاوید نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "عظیم مصنفہ حسینہ معین کو کھونے پر افسوس ہوا، ہم ان کے بہترین ڈرامے دھوپ کنارے، آہٹ، ان کہی، تنہایاں، کسک اور پڑوسی جیسے ڈرامے دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے۔"

حسینہ معین بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں 20 نومبر 1941 میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد وہ 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئیں۔

انہوں نے پاکستان میں اپنی زندگی کے ابتدائی سال راولپنڈی میں گزارے جس کے بعد لاہور اور پھر کراچی منتقل ہوئیں جہاں 1960 میں گورنمنٹ کالج فار وومن سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

پاکستانی مصنفہ حسینہ معین نے 1963 میں کراچی یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میں ایم اے کی کی ڈگری حاصل کی۔

حسینہ معین لکھنے میں خاصی دلچسپی رکھتی تھیں اور وہ زمانۂ طالب علمی میں دیگر سرگرمیوں کے علاوہ مقامی جرنل میں ہفتہ وار کالم بعنوان 'بھائی جان' لکھتی تھیں۔

مصنفہ کو اس وقت شہرت ملنا شروع ہوئی جب وہ ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد پلے لکھ رہی تھیں جن میں 'اسٹوڈیو نمبر 9' شامل ہے۔

حسینہ معین کے مشہور ڈرامے

حسینہ معین نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، پرچھائیاں، شہروزی، زیر زبر پیش، انکل عرفی، آہٹ، دھند، بندش اور کسک شامل ہیں۔

ان کے حالیہ ڈراموں میں جیو انٹرٹینمنٹ کا ڈرامہ 'سارے موسم اپنے ہیں' اور 'میری بہن مایا' شامل ہے۔

سن 1987 میں نشر ہونے والے ڈرامے 'دھوپ کنارے' نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی خوب مقبولیت حاصل کی تھی۔

انہوں نے بھارت کے لیے بھی 'تنہا' نامی پلے لکھا تھا جسے شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا۔

حسینہ معین کے ڈرامے 'گڑیا' نے ٹوکیو میں گلوبل ٹی وی پلیز فیسٹیول میں بہترین اسکرپٹ اور بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

فلمی دنیا میں طبع آزمائی

حسینہ معین نے 1978 میں فلم 'یہاں سے وہاں تک' کا اسکرپٹ تحریر کیا تھا جس میں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

انہوں نے 1986 میں ریلیز ہونے والی فلم 'نزدیکیاں' کے لیے بھی مکالمے تحریر کیے تھے اور وہ بالی وڈ فلم 'حنا' کے مکالمے بھی تحریر کر چکی ہیں۔

حسینہ معین کو حکومت پاکستان کی جانب سے 1987 میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکرگی سے بھی نوازا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG