رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں نوجوان لڑکی کو جلا کر ہلاک کرنے کی مبینہ کوشش


آگ سے جھلسنے والی اقصیٰ اسپتال میں زیر علاج ہے۔

روشن مغل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک سولہ سالہ یتیم لڑکی کو مبینہ طور پر آگ لگا ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

پاکستانی کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے کھرل عباسیاں میں ہونے والا یہ واقع اس وقت ذرائع ابلاغ کے مقامی نمائندوں کے نوٹس میں آیا جب گاؤں کے ایک شخص نے آگ سے بری طرح جھلس جانے والی لڑکی کی ایک تصویر ایک مقامی صحافی کو دی ۔جسے اس نے فیس بک پر پوسٹ کیا اور اگلے کئی اردو اخباروں نے بھی اسے شائع کیا۔

ذرائع ابلاغ میں ان خبروں کی اشاعت کے بعد جمعہ کے روز پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے باغ کے ڈپٹی کمشنر کو واقع کی تحقیقات کا حکم دیا۔

گاؤں کھرل عباسیاں کے ایک سیاسی و سماجی راہنما ظفر اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لڑکی کو مبینہ طور ہر اس کے ایک رشة دار لڑ کے نے آگ لگائی۔

باغ کے صحافی طاہر عباسی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کو برادری جرگہ کے ذریعے پندرہ لاکھ روپے کے عوض منہ بند رکھنے پر آمادہ کیا گیا۔

باغ کے ڈپٹی کشمیر سردار وحید خان نے متاثرہ لڑکی اور اس کی والدہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقصی حنیف مال مویشوں کے لیے پانی گرم کرتے ہوئے کپڑوں کو آگ لگنے سے زخمی ہو ئی۔

پاکستانی کشمیر میں خواتین کے حقوق کے لیے لئے کام کرنے والی ایک مقامی تنظیم بنت ہوا کی سربراہ ڈاکٹر خدیجہ نذر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ علاقے میں اس طرح کے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں ، جن کے خلاف موثر آواز نہیں اٹھائی جاتی ۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کو بعض سماجی روايات کے آڑے آنے کی وجہ سے دبا دیا جاتا ہے اور ایسے واقعات میں خواتین کے قتل کو عمومی طور پر خود کشی یا ذہنی طور پر معذوری کو ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG