رسائی کے لنکس

logo-print

پی ایس ایل فائیو: کن پاکستانی بالرز کی پرفارمنس سب سے زیادہ اہم ہو گی؟


پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے سیزن فائیو کے تمام میچز پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں۔ آج سے پی ایس ایل کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے سیزن فائیو کے تمام میچز پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں۔ آج سے پی ایس ایل کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔

اس سیزن میں کن ٹیموں میں شامل بالرز کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ آیے اس پر ایک تفصیلی نظر ڈالیں:

حسن علی

پشاور زلمی کے بالرز میں کئی اہم نام شامل ہیں جن میں سرفہرست حسن علی، وہاب ریاض، راحت علی، عامر خان اور حیدر علی شامل ہیں۔ حسن علی اور وہاب ریاض سیزین فائیو میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

حسن علی نے پی ایس ایل سیزن-ون میں ایمرجنگ پلیئر یعنی ابھرتے ہوئے بالر کی حیثیت سے پشاور زلمی کی ٹیم میں شرکت کی تھی۔ 2016 سے اب تک ان کی پرفارمنس میں نمایاں فرق آیا ہے جو بہت مثبت ہے۔ اس وقت وہ تیز رفتاری کے ساتھ بال کو سوئنگ کرانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

وہ پہلے سیزن سے پانچویں سیزن تک لیگ کا حصہ ہیں اس لیے انہیں پی ایس ایل کا تجربہ کار کھلاڑی کہنا غلط نہ ہوگا۔

پی ایس ایل کے سیزن ون میں اچھی کارکردگی کی بدولت ہی اُنہیں اسی سال دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے قومی ٹیم میں منتخب کیا گیا۔ اس سیریز میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 8 وکٹیں لی تھیں۔

بہترین پرفارمنس کے حوالے انہوں نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور مجموعی طور پر 13 وکٹیں لے کر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے تھے۔

ان کی اسی متاثر کن پرفارمنس کی بنیاد پر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سیزن فائیو میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

شاداب خان

اسلام آباد یونائیٹڈ کے بالرز میں ڈیل اسٹین، محمد موسیٰ، رومان رئیس، شاداب خان اور ظفر گوہر شامل ہیں۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان میں جن بالر سے سب سے بہترین اور شاندار پرفارمنس کی امیدیں وابستہ ہیں ان میں شاداب خان بھی ہیں۔

شاداب سیرن فائیو میں بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ اسپن بالنگ کرانے کے ساتھ ساتھ آل راؤنڈر ہیں۔ انہوں نے سیزن ٹو سے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنا شروع کیا تھا۔

سیزن فور میں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے نائب کپتان تھے۔ پی ایس ایل سے ہی اُنہیں قومی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا تھا۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اب تک ٹی 20 انٹرنیشنل میں اُن کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ اُن کی بہترین پرفارمنس 14 رنز کے عوض 4 وکٹیں ہے۔

سیزن فائیو کے حوالے سے بھی ان سے شاندار پرفارمنس کی توقع کی جاسکتی ہے۔

شاہین شاہ آفریدی

لاہور قلندرز کے بالنگ اسکواڈ می شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور فرزان راجہ لاہور قلندرز کے بالنگ اسکواڈ میں شامل ہیں تاہم اسلام آباد کے لیفٹ آرم میڈیم فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کے تمام ہنر سے آگاہ ہیں اور اپنی پرفارمنس کے ذریعے وہ متعدد بار ان کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

شاہین شاہ آفریدی سیزن تھری میں ملتان سلطانز کے خلاف دبئی میں صرف چار رنز کے عوض پانچ وکٹیں اُن کی شاندار پرفارمنس تھی جس نے ثابت کیا کہ وہ قومی ٹیم میں شمولیت کے اہل ہیں۔

شاہین آفریدی نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی 20 سیریز سے کیا تھا جس کے بعد سے وہ اب تک متعدد ٹیسٹ میچز، درجن سے زائد ایک روزہ انٹرنیشنل اور ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔

شاہین شاہ آفریدی نے نیوزی لینڈ کے خلاف تین ون ڈے میچز کی سیریز میں 9 وکٹیں لی تھیں اور مین آف دی سیریز قرار پائے تھے۔

عثمان خان شنواری

کراچی کنگز کی طرف سے بالنگ کرنے والے عثمان خان شنواری لیفٹ آرم فاسٹ بالر ہیں۔ انہوں نے پاکستان سپر لیگ میں شمولیت سے قبل ہی انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر کا آغاز کر دیا تھا لیکن وہ مستقل ٹیم کا حصہ نہیں رہے۔ پی ایس ایل میں عمدہ پرفارمنس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کی واپسی ہوئی۔

عثمان شارجہ میں پشاور زلمی کے خلاف 32 رنز دے کر تین وکٹوں کی شاندار پرفارمنس کے بعد قومی ٹیم کے سلیکٹرز کی نظروں میں نمایاں ہوئے۔

عثمان شنواری گزشتہ سیزن کے 10 میچوں میں 13 وکٹیں لے کر کراچی کنگز کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بالر ہیں۔

ان کے علاوہ جن بالرز پر کراچی کنگز کی ٹیم انحصار کرے گی ان میں عماد وسیم، افتخار احمد، محمد عامر، اسامہ میر، کرس جارڈن، لیام پلنکٹ و دیگر شامل ہیں۔

محمد عرفان

سلطانز کے فاسٹ بالرز میں محمد عرفان، جنید خان جب کہ اسپنرز میں شاہد آفریدی، معین علی اور عمران صادق شامل ہیں۔ ان میں سے محمد عرفان اور جنید خان سے سب سے اچھی پر فارمنس متوقع ہے۔

محمد عرفان کو اچھی پرفارمنس کی بدولت سیزن فائیو کی پلاٹینیم کیٹیگری میں منتخب ہونے کا موقع ملا۔

نسیم حسن شاہ

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں جن بالرز سے اچھی پرفارمنس کی توقع ہے ان میں فواد احمد، محمد حسین، نسیم شاہ اور سہیل خان شامل ہیں۔

نسیم شاہ سے زیادہ اچھی پرفارمنس متوقع ہے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹرک کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی ہیں اور اسی کارنامے سے انہیں ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کرنے کا موقع ملا۔

گزشتہ سال نومبر میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین کے گابا اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ پاکستانی بالر نسیم شاہ کے ٹیسٹ کیریئر کا پہلا ٹیسٹ تھا۔

نسیم شاہ نے دورہ آسٹریلیا کے دوران پرتھ میں آسٹریلیا اے کے خلاف 8 اوورز میں اچھی پرفارمنس دے کر ٹیسٹ میچ میں اپنی جگہ پکی کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG