رسائی کے لنکس

عرب دنیا میں پاکستانیوں کی کمی سے زرِ مبادلہ پر اثر نہیں پڑے گا، سرتاج عزیز

  • مدثرہ منظر

EMIRATES GULF WORKERS PLIGHT

ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن آف پاکستان سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اس سال 9 لاکھ نئے کارکن خلیجی ملکوں میں بھیجے گئے ہیں

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیجی ملکوں سے پاکستانی کارکنوں کے واپس آنے اور خلیج تعاون کی کونسل جی سی سی کے تحت خلیجی ممالک بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورکرز کی تعداد کم ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ اس کا اثر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑ سکتا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن آف پاکستان سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اس سال 9 لاکھ نئے کارکن خلیجی ملکوں میں بھیجے گئے ہیں اور اب کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ تربیت یافتہ اور پیشہ ور ماہرین ان ممالک میں بھیجے جائیں۔

سعودی عرب سے بات کرتے ہوئے آئل فیلڈ سیکیورٹی کے تجزیہ کار چوہدری نعمان ظفر نے کہا کہ اگرچہ سعودی عرب نے 2030 تک اپنی معیشت کا انحصار تیل سے کم کر کے اپنی افرادی قوت اور صلاحیت پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جو پاکستانی کسی شعبے میں ماہر ہیں یا اس ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، انہیں ان کے ملک واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG