رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی پارلیمان کے لیے شمسی توانائی کا منصوبہ مکمل


حکام کے مطابق پاکستان وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس کی وفاقی پارلیمان کی عمارت مکمل طور پر اپنی بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کرتی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت کو بجلی کی فراہمی کے لیے شمسی توانائی کا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد منگل کو اس کا افتتاح کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس کی وفاقی پارلیمان کی عمارت مکمل طور پر اپنی بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کرتی ہے۔

ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے اس منصوبے کا آغاز گزشتہ سال چین کے صدر شی جنپنگ کی آمد کے موقع پر 22 اپریل کو کیا گیا تھا۔

منگل کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں قومی اسمبلی کے اسیپکر، چیئرمین سینیٹ اور متعدد وفاقی وزرا کے علاوہ چین کے سفیر سن وائی ڈونگ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک پاکستان میں بجلی کے بحران کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اس منصوبے سے اس وقت 80 کلو واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس میں سے 62 کلو واٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی عمارتوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جبکہ اضافی 18 کلو واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں منتقل کر دی جاتی ہے تاکہ عام صارف اسے استعمال کر سکیں۔

واضح رہے کہ اس منصوبے سے پیدا کی جانے والی بجلی کو ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا اور رات کو نیشنل گرڈ سے ہی بجلی حاصل کی جائے گی۔

تاہم اس کے بل سے دن کو نیشنل گرڈ میں بھیجی جانے والی بجلی کے واجبات منہا کر دیے جائیں گے۔

اس مقصد کے لیے بجلی کی ترسیل کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیپرا‘ نے پارلیمان کو نیٹ میٹرنگ لائسنس بھی جاری کر دیا ہے۔

اس منصوبے کو چینی تعاون سے 28 کروڑ چھ لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمان کی عمارت کو شمسی توانائی پر منتقل کیے جانے کے بعد ہر سال لگ بھگ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے بجلی کے بل کی بچت ہو گی۔

سورج کے روشنی حاصل کرنے کے لیے کچھ پینل پارلیمان کی عمارت کی چھت پر جبکہ کچھ عمارت کے قریب خالی جگہ پر نصب کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG