رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی آبادکاروں پر حملوں کا الزام، فلسطینی گاؤں میں کیمرے نصب


مغربی کنارے کا گاؤں 'کسان' اس علاقے میں آتا ہے جہاں اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔

فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے ایک گاؤں کے رہائشیوں نے اسرائیلی آباد کاروں پر نظر رکھنے کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے (سی سی ٹی وی) نصب کر لیے ہیں۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ اسرائیلی آباد کار وقتاً فوقتاً اُن پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مغربی کنارے کا گاؤں 'کسان' اس علاقے میں آتا ہے جہاں اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی بستیوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھنے والے اپنے مقاصد سے باز رہیں گے۔

منصوبے کے بانی علی فراج نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا مقصد اپنے دیہات، بچوں اور دیگر افراد کو بچانا ہے جو اسرائیلی آباد کاروں کے قریبی علاقوں میں رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ مغربی کنارے میں آباد 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان چار لاکھ 30 ہزار اسرائیلی آباد کار بھی مقیم ہیں۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد یہاں یہودی بستیوں کی تعمیر شروع ہوئی۔

'کسان' میں کیمرے نصب کرنے کے منصوبے میں شامل ایک رُکن احمد عیسیٰ نے بتایا کہ 10 مقامات پر لگائے گئے یہ کیمرے ایک موبائل ایپلی کیشن کے ساتھ منسلک ہوں گے جو رہائشیوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے آگاہ کرے گی اور کسی بھی حملے کی صورت میں سارا واقعہ ریکارڈ ہو گا۔

علی فراج نے مزید بتایا کہ 'کسان' اور اس کے گردو نواح کے علاقوں میں لگ بھگ 450 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملے اور اُن کے گھروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس منصوبے کی فنڈنگ فلسطینی نژاد امریکی تاجر بشر مصری نے کی ہے۔ بشر اس سے قبل بھی مغربی کنارے کے دُور دراز علاقوں میں اس نوعیت کے چھ منصوبوں کی فنڈنگ کر چکے ہیں جس کا مقصد یہودی بستیوں میں توسیع کے باعث مقامی آبادی کو خطرات سے بچانا ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق اقوامِ متحدہ کے پاس بھی ایسے واقعات کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہے جن میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 'کسان' گاؤں میں فلسطینی اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری حاصل نہیں ہے اور یہاں اسرائیلی فوج کا کنٹرول زیادہ ہے جس کی وجہ سے آباد کاروں کے کسی بھی مبینہ حملے کی صورت میں اُن کی شنوائی نہیں ہوتی۔

علی فراج کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا اثر و رُسوخ کم ہونے کے باعث رہائشی اپنی حفاظت کے لیے خود اقدامات کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG