رسائی کے لنکس

کرونا وبا کے دور میں آن لائن ہوم اسکولنگ کتنی مؤثر، امریکہ میں پاکستانی نژاد والدین کیا سوچتے ہیں؟


پاکستانی نژاد امریکی شہری ثنا الیاس، اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے کے حق میں ہیں، تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ سماجی میل جول کے آداب بھی سیکھیں

گزشتہ سال کرونا وبا کے پھیلتے پر امریکہ میں اسکول بند کرنے کے بعد آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ یہ طریقہ کچھ والدین کو ایسا بھا گیا ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو گھر پر ہی تعلیم دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے، اے پی سے بات کرتے ہوئے کچھ امریکی والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی خصوصی تعلیم کی ضروریات ہیں، کچھ کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کے تعلیمی نصاب میں دینیات بھی شامل ہو، جب کہ کئی نے مقامی تعلیمی نصاب پر اپنے شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ہوم اسکولنگ کے حق میں دلائل دیے۔

والدین کی مخصوص ترجیحات بلاشبہ الگ ہوں گی، لیکن ان میں یہ ایک بات مشترک ہے کہ ان سب نے کرونا وبا کے زمانے میں مجبوراً اپنے بچوں کو ہوم اسکولنگ کرائی اور پھر انہیں احساس ہوا کہ ایسا کرنا ممکن ہے، اورایک وقت گزرنے کے ساتھ پر انہیں یہ سلسلہ بھلا محسوس ہونے لگا.

امریکی مردم شماری کے ادارے نے بھی ہوم اسکولنگ میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2021ء میں ملک میں بچوں کی ہوم اسکولنگ کرانے والے گھرانوں کی تعداد دوگنی ہو کر 11 فیصد ہو گئی۔ صرف چھ ماہ پہلے ستمبر 2020ء میں یہ تعداد پانچ اعشاریہ چار فیصد تھی۔

رابعہ شیخ اور ان کے بچے
رابعہ شیخ اور ان کے بچے

سیاہ فام نسل کے گھرانوں میں ہوم اسکولنگ کی شرح سب سے زیادہ بڑھی ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں یہ شرح تین اعشاریہ تین فیصد تھی جو ستمبر میں بڑھ کر 16.6 فیصد پر پہنچ گئی۔

ایسا ہی ایک سیاہ فام گھرانہ آرلینا اور رابرٹ براؤن کا ہے، جن کا تعلق آسٹن، ٹیکساس سےہے۔ ان کے تین بچے مقامی ایلیمنٹری اسکول جاتے تھے۔ اپنے بچوں کی ورچوئل تعلیم کا سلسلہ دیکھتے ہوئے انہیں خیال آیا کہ اسی ماڈل پر رہتے ہوئے کیوں نہ بچوں کو مذہبی نصاب تعلیم پر منتقل کر دیا جائے اور اس طرح انہوں نے سیٹن ہوم سٹڈی اسکول سے رابطہ کیا جو ملک بھر میں 16 ہزار بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔

اس جوڑے کا کہنا تھا کہ ہوم اسکولنگ پر منتقل ہونے کا سب سے مشکل پہلو خود کو یہ باور کرانا تھا کہ گھر پر پڑھائی سے نہ صرف عمدہ نتائج مل سکتے ہیں بلکہ یہ طریقہ تعلیم بہت آزادی دیتا ہے۔

14 سالہ ڈوریان کا تعلق بھی سیاہ فام گھرانے سے ہے۔ ڈوریان کی والدہ اینجلا ویلنٹائن کہتی ہیں کہ شکاگو کے مضافات میں اسکول جانے والے ڈوریان کو اپنے اسکول میں اکثر تعصب کا سامنا رہتا تھا۔ اب ڈوریان گھر پر ہی قومی سیاہ فام نصاب پر مبنی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

مختلف نسلوں کا ہوم اسکولنگ کی طرف مختلف رجحان دیکھ کر ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی آیا پاکستانی نژاد امریکی والدین بھی اپنے بچوں کے لئے ایسا کچھ ہی سوچ رہے ہیں؟

نیو جرسی میں طویل عرصے سے مقیم جیا احمد کے تین بچے اسکول جاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسکول جانے یا گھر پر پڑھنے سے متعلق فیصلہ صرف والدین کی مرضی پر منحصر نہیں ہو سکتا۔ بچے کیا چاہتے ہیں یہ بہت ضروری ہے۔

جیا کہتی ہیں کہ ان کا سب سے بڑا بیٹا ہائی اسکول میں ہے اور جب گزشتہ سال کے آخر میں ملے جلے انداز میں اسکول کھلے جن میں بچوں کو کچھ دن گھر سے پڑھنے اور باقی روز اسکول جانے کا اختیار حاصل تھا تو ان کے بڑے بیٹے نے مکمل طور پر گھر سے پڑھنے کو ترجیح دی، جب کہ چھوٹے دو بچے گھر میں بیٹھے بیٹھے تنگ آ چکے تھے۔ اس وقت ویکسین بھی نہیں آئی تھی لیکن بچوں کے لئے باہر نکلنا ضروری ہو گیا تھا اس لئے انہوں نے اسکول کی جانب سے عائد احتیاطی تدابیر پر بھروسہ کرتے ہوئے بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کیا۔

امریکہ ہی میں مقیم ثنا الیاس تین بیٹیوں کی والدہ ہیں۔ ثنا بتاتی ہیں کہ گزشتہ سال جب اسکول بند ہوئے تو بچے بہت خوش تھے۔ اہک نیا طریقہ تھا، گھر سے پڑھنا بچے انجوائے کر رہے تھے۔ مگر جب یہ سلسلہ مستقل شکل اختیار کر گیا تو بچے جلد ہی اکتاہٹ کا شکار ہو گئے اور وہ اپنے دوست اور اساتذہ کو یاد کر نے لگے۔ اسی لئے مارچ میں جب ہائبرڈ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو بچوں نے کچھ دن اسکول جانا شروع کر دیا۔

ثنا اسکول کی تعلیم سے بھی اور کرونا سے بچاؤ کے اقدامات سے بھی مطمئن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ، ان کے شوہر اور ان سے زیادہ ان کے بچے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب ستمبر شروع ہو اور کب وہ پہلے کی طرح روزانہ اسکول جانا شروع کریں اور زندگی پھر پرانی ڈگر پر لوٹ آئے۔

رابعہ شیخ اسٹے ایٹ ہوم والدہ ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی گیارہ سال کی ہے اور بیٹا چھ سال کا۔ رابعہ بتاتی ہیں کہ ان سے پہلے کوئی پوچھتا کہ ہوم اسکولنگ کے بارے میں کیا خیال ہے تو وہ شاید گڑبڑا جاتیں۔ مگر کرونا کی وجہ سے گھر سے اسکولنگ شروع ہوئی تو یہ اندازہ ہوا کہ ایسا کرنا ممکن ہے اور بچوں کو مستقل بنیادوں پر گھر سے پڑھایا جا سکتا ہے۔

رابعہ بتاتی ہیں کہ کچھ عرصے تک بچے گھر سے پڑھتے اچھے بھی لگے مگر وہ اس سسٹم کے دور رس اثرات کے بارے میں سوچ کر پریشان ہو جاتی ہیں۔

جیا احمد اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ
جیا احمد اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ

رابعہ کہتی ہیں کہ اسکول میں ہر چیز ہماری مرضی کی نہیں ہوتی، اچھی باتیں بھی ہیں بری بھی، اسکولز میں کبھی سخت اساتذہ بھی مل سکتے ہیں اور دوسرے بچوں سے ہراسانی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر ان سب سے کیسے نمٹا جائے یہ سیکھنے کے لئے ہی اسکول جانا ضروری ہے۔ آج بچے ان سب کا سامنا کریں گے اور ان سے سیکھیں گے تو آئیندہ زندگی میں ایسے رویوں سے نمٹ سکیں گے، گھر کی چہار دیواری میں رہ کر یہ سب سیکھنا ممکن نہیں۔

ثنا الیاس کہتی ہیں کہ گو کہ کرونا کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا لیکن بچوں کو گھر پر رکھنا ان کی ذہنی صحت کے لئے بھی اچھا نہیں۔ ان کا دوسروں سے ملنا جلنا ضروری ہے اور اسکول ان کی ذہنی نشو و نما کے لئے بہترین جگہ ہے جہاں وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی ڈسپلن بھی سیکھتے ہیں۔ ثنا اپنے بچوں کی صورت حال کے بارے میں مزید کہتی ہیں کہ ''اس دوران بچوں کا سکرین ٹائم تشویشناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ میری بڑی بیٹی پورا دن سکرین کے سامنے بیٹھے بیٹھے ذہنی تھکاوٹ کا شکار رہتی تھی جب کہ چھوٹی اکتاہٹ کا شکار ہو کر اکثر اونگھتے اونگھتے سو جاتی تھی''۔ امید ہے کہ اسکول جانے سے یہ سارے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

جیا احمد تو کسی طور بچوں کی ہوم اسکولنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ ثنا الیاس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اتنا سکرین ٹائم بچوں کے لئے اچھا نہیں۔ نہ صرف پڑھائی مگر دوستوں سے رابطے کا ذریعہ بھی فون اور کمپیوٹر کی اسکرین بن جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پورا دن گھر میں بیٹھے رہنا نہ بچوں کی جسمانی صحت کے لئے اچھا ہے نہ ذہنی۔ بچے گھر میں بیٹھے بیٹھے سست ہو جاتے ہیں، وزن بڑھ جاتا ہے اور اکتاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ رات دیر سے سوتے ہیں۔ صبح ویسے ہی اٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتے ہیں۔اسکول جانے میں ہی ان تمام مسائل کا حل مضمر ہے۔

وہ کہتی ہیں ''انسان کی قدرتی ساخت ایسی ہے کہ ہمیں سماجی رشتوں اور رابطوں کی ضرورت رہتی ہے، اور گھر میں بیٹھ کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے میں ہوم اسکولنگ کے سخت خلاف ہوں''.

پاکستانی نژاد والدین کی ہوم اسکولنگ کی مخالفت کی اپنی وجوہات ہیں اور یہ والدین بچوں کی نشو و نما میں اسکول جانے کی اہمیت پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب، دیگر امریکی خاندانوں میں بلاشبہ ہوم اسکولنگ کا رجحان پہلے سے بڑھا ہے، لیکن توقع یہی ہے کہ ستمبر کے مہینے سے بچوں کی اکثریت روایتی تعلیم کے ماڈل کے تحت مقامی اسکولوں کا رخ کرے گی۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر والدین، جن میں ماں اور باپ دونوں شامل ہیں، ملازمت پیشہ ہوتے ہیں۔ امریکہ میں پبلک سکول تعلیم نہ صرف مفت ہے بلکہ یہاں ایسے بچوں کو 'ایکسٹنڈڈ آورز' یعنی اسکول کے وقت سے زیادہ گھنٹوں کی دیکھ بھال کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔ دفاتر کھلنے کے بعد ہوم اسکولنگ کو ترجیح دینے والے والدین پر بچوں کی دیکھ بھال کا خرچہ بھی بڑھتا ہے۔ اس طرح یہ ماڈل اکثر خاندانوں کے لئے دشوار ہو سکتا ہے۔

(اس مضمون میں شامل کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)

  • 16x9 Image

    ندا فاطمہ سمیر

    ندا فاطمہ سمیر کو پاکستان میں لوگ نجی ٹیلی ویژن نیوز کی اولین میزبان کے طور پر جانتے ہیں۔ سال 2002 میں کیریئر کے آغاز سے اب تک انہوں نے کئی نیوز بلیٹنز، لائیو ٹرانسمیشنز، سیاسی اور سماجی موضوعات پر پروگرامز کی میزبانی کرنے کے ساتھ ساتھ پروگرام پروڈیوسر کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG