رسائی کے لنکس

پیرس: آئی ایم ایف کے دفتر میں خط بم دھماکہ


خط بم دھاکے کے بعد پولیس اہل کار پیرس میں آئی ایم ایف کے دفتر کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ 16 مارچ 2017

فرانس میں اسلامی دہشت گردوں کے کئی حملوں کے بعد سے گذشتہ دو سال سے ایمرجینسی نافذ ہے۔

جمعرات کے روز پیرس میں آئی ایم ایف کے دفتر میں ایک شخص خط کے لفافے میں چھپایا گیا بارودی مواد پھٹنے سے زخمی ہوگیا۔

دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس علاقے کو محفوظ بنانے سے قبل تمام عملے کو جلدی سے عمارت سے باہر نکال دیا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے لفافہ بم کو بزدلانہ تشدد کا عمل قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور اپنے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے دفتر میں خط بم دھماکے سے ایک دن پہلے ایک ایسا ہی پیکٹ جرمنی کی وزارت مالیات کے دفتر میں پہنچا تھا جس کے ساتھ کم طاقت کا دھماکہ خیر مواد نصب تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں واقعات کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے۔

فرانس میں اسلامی دہشت گردوں کے کئی حملوں کے بعد سے گذشتہ دو سال سے ایمرجینسی نافذ ہے۔

پولیس نے فرانس کے مغربی شہر گراسے میں ایک نوعمر لڑکے کو حراست میں لیا ہے جس نے مبینہ طور پر ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کر کے کم از کم دو افراد کو زخمی کر دیا تھا۔

پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ لڑکے نے اس حملے میں کس قسم کا ہتھیار استعمال کیا تھا لیکن یہ کہا ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث ایک اور ممکنہ شخص کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

پولیس نے حملے کے بعد اسکول خالی کروا لیاتھا۔ تمام طالب علم اور ٹیچر محفوظ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG