رسائی کے لنکس

logo-print

لندن: پارلیمان کے باہر گاڑی کی ٹکر سے تین زخمی، ڈرائیور گرفتار


Britain Queen's Speech

حکام نے بتایا ہےکہ کار میں کوئی اور فرد موجود نہیں تھا، اور کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔ اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص کی عمر 20 کے پیٹےمیں ہے

لندن میں پولیس نے اُس شخص کو دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے، جس سے قبل اُنھوں نے پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے ایک گروپ پر کار چڑھا دی تھی، جس کے بعد کار برطانوی پالیمان کے رہائشی علاقے کے باہر رکاوٹوں سے جا ٹکرائی تھی، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔

حکام نے بتایا ہےکہ کار میں کوئی اور فرد موجود نہیں تھا، اور کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص کی عمر 20 کے پیٹےمیں ہے۔

لندن کے نائب کمشنر، نیل باسو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ عمل دانستہ طور پر عمل میں لایا گیا۔ لیکن اس کا محرک کیا تھا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا‘‘۔

باسو نے کہا کہ مشتبہ شخص پولیس کےساتھ تعاون نہیں کررہا ہے، ایسے میں جب وہ اس فرد کی شناخت اور محرک متعین کرنے میں مصروف ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے تمام افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور تاحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی یا نہیں۔

لندن کے اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یقینی طور پر یہ ایک جان بوجھ کر کی جانے والی کارروائی تھی۔

باسو کا کہنا تھا کہ گرفتار کیا جانے والا مشکوک شخص اپنی شناخت اور نیت کے حوالے سے پولیس سے تعاون نہیں کر رہا۔

اس سے قبل لندن کی پولیس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ رکاوٹوں سے ٹکرانے والی گاڑی کے مرد ڈرائیور کو موقع پر موجود اہل کاروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں کئی راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن تاحال پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود اہلکار تحقیقات کر رہے ہیں اور واقعے کی مزید تفصیلات جیسے ہی ملیں گی، انہیں عوام کے لیے جاری کردیا جائے گا۔

ایک پولیس اہلکار پارلیمان کی عمارت کی جانب جانے والی سڑک پر کھڑا ہے۔
ایک پولیس اہلکار پارلیمان کی عمارت کی جانب جانے والی سڑک پر کھڑا ہے۔

لندن پولیس کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس کے تفتیشی افسران واقعے کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

موقع پر موجود بعض افراد کی جانب سے بنائی جانے والی واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکار ایک شخص کو ہتھکڑی باندھ کر اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد جیسن ولیمز نے برطانوی نشریاتی ادارے 'اسکائی نیوز' کو بتایا ہے کہ پارلیمان کی طرف آنے والی گاڑی کی رفتار خاصی تیزی تھی جو خاصی غیر معمولی بات ہے۔

عینی شاہد نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ یہ کوئی ٹریفک حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی۔

ٹی وی پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک گاڑی کی جانب بندوقیں تان رکھی ہیں جو پارلیمان کی عمارت کے اندر جانے والے راستے پر موجود ایک بیریئر سے ٹکرانے کے بعد کھڑی ہوئی ہے۔

واقعے کے بعد لندن کی انتظامیہ نے پارلیمان کی عمارت کے نزدیک واقع زیرِ زمین ٹرین اسٹیشن 'ویسٹ منسٹر' کو بند کردیا ہے۔

واقعے کے بعد پارلیمان کی عمارت کو بھی بند کردیا گیا ہے اور کسی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

برطانوی پارلیمان کے ارکان اس وقت موسمِ گرما کی تعطیلات پر ہیں اور اسی وجہ سے واقعے کے وقت عمارت میں کوئی رکنِ پارلیمان موجود نہیں تھا۔

برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں میں حالیہ چند برسوں کے دوران گاڑی سے کچل کر راہ گیروں کو ہلاک کرنے کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔

مارچ 2017ء میں پارلیمان کی عمارت کے نزدیک دریائے ٹیمز پر واقع ایک پل پر ایک تیز رفتار کار سوار نے چار افراد کو کچل دیا تھا۔

بعد ازاں کار سوار 52 سالہ خالد مسعود نے پارلیمان کی عمارت کے باہر تعینات ایک پولیس اہلکار کو خنجر کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔ حملہ آور بعد ازاں موقع پر موجود دیگر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے مارا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی پولیس کی تحویل میں موجود ایک برطانوی نو مسلم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ لندن کے معروف بازار آکسفورڈ اسٹریٹ پر چلنے والے 100 سے زائد راہ گیروں کو ٹرک سے کچل کر ہلاک کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG