رسائی کے لنکس

برطانیہ آگ سے کھیل رہا ہے، پچھتائے گا: روس کا انتباہ


اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر اپنے خطاب کے دوران سابق جاسوس کو زہر دینے سے متعلق برطانیہ کی تحقیقاتی رپورٹ لہرا رہے ہیں۔

روسی سفیر نے اپنے 30 منٹ طویل خطاب میں کہا کہ انہوں نے اپنے برطانوی دوستوں کو بتادیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں جس پر وہ پچھتائیں گے۔

روس نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ایک شہری اور سابق روسی جاسوس کو زہر دینے کا الزام ماسکو کے سر دھر کر "آگ سے کھیل رہا ہے جس پر اسے پچھتانا پڑے گا۔"

جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عالمی ادارے میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نے اپنے خطاب میں برطانیہ کے الزام کو "جھوٹ اور بے سروپا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک برطانوی شہری کو زہر دینے کے معاملے میں ملوث نہیں۔

برطانیہ میں مقیم سابق روسی جاسوس سرگئی اسکری پال پر زہریلی گیس کے حملے کے بعد سے روس اور برطانیہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک اپنے ہاں تعینات ایک دوسرے کے درجنوں سفارت کاروں کو بے دخل کرچکے ہیں۔

برطانیہ کی ایما اور درخواست پر اس کے اتحادی امریکہ اور یورپی یونین کے کئی ملک بھی اپنے ہاں تعینات 100 سے زائد روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرچکے ہیں جس پر روس نے سخت جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق سرگئی اسکری پال اور ان کی صاحبزادی یولیا پر چار مارچ کو ایک برطانوی قصبے سالسبری میں زہریلی گیس کا حملہ کیا گیا تھا جس سے وہ دونوں شدید متاثر ہوئے تھے۔

دونوں افراد ایک برطانوی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں سرگئی اسکری پال کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

سرگئی اسکری پال روسی فوج میں انٹیلی جنس افسر تھے جو برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔

وہ 2010ء میں روس اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے جاسوسوں کے تبادلے کے نتیجے میں برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔

اقوامِ متحدہ میں برطانیہ کی مستقل مندوب کیرن پیئرز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روسی سفیر کی تقریر کا جواب دے رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں برطانیہ کی مستقل مندوب کیرن پیئرز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روسی سفیر کی تقریر کا جواب دے رہی ہیں۔

برطانوی حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں جو گیس استعمال کی گئی وہ سوویت دور میں روسی فوج کے زیرِ استعمال رہی ہے۔

روس حملے میں ملوث ہونے کا الزام سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "جھوٹ، بہتان اور افسانہ" قرار دے چکا ہے۔

جمعرات کو اس معاملے پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روسی سفیر کا کہنا تھا کہ جو شخص بھی برطانوی کرائم ڈرامے دیکھتا ہے اسے کسی کو قتل کرنے کے سیکڑوں طریقے معلوم ہوں گے۔

انہوں نے سوال کیا کہ پھر آخر کیوں روس کسی کے قتل کے لیے اتنا پیچیدہ اور خطرناک طریقہ اختیار کرے گا جب کہ اس کام کے درجنوں آسان طریقے موجود ہیں؟

روسی سفیر نے اپنے 30 منٹ طویل خطاب میں کہا کہ انہوں نے اپنے برطانوی دوستوں کو بتادیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں جس پر وہ پچھتائیں گے۔

روسی سفیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر معروف انگریزی ناول 'ایلس ان ونڈر لینڈ' کا ایک اقتباس بھی پڑھ کر سنایا جس میں ملکہ پہلے سزا دینے اور بعد میں مقدمے کی کارروائی چلانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ اقتباس پڑھنے کے بعد روسی سفیر نے اجلاس سے سوال کیا کہ "کیا آپ کو یہ سن کر کچھ یاد آیا؟"

برطانیہ اور روس کے درمیان جاری اس حالیہ تنازع پر سلامتی کونسل کا یہ دوسرا اجلاس تھا جسے ماسکو کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل اس معاملے پر 15 رکنی کونسل کا پہلا اجلاس 14 مارچ کو برطانیہ کی درخواست پر ہوا تھا۔

اس سے قبل دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کے نگران عالمی ادارے کے بدھ کو ہونے والے اجلاس کے دوران روس نے سابق جاسوس کو زہر دینے کے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کرانے کی قرارداد پیش کی تھی جو صرف ایک ووٹ سے مسترد ہوگئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG