رسائی کے لنکس

logo-print

ممکن ہے افغانستان سیاسی تصفیے کی جانب بڑھ رہا ہو: پینٹاگان


فائل

رپورٹ کے مطابق، ''سفارتی، مذہبی، فوجی اور سماجی دبائو بڑھانے کی بنا پر وضع کردہ حکمت علمی، ساتھ ہی بین الاقوامی کارروائی میں اضافے کی وجہ سے طالبان کی سینئر قیادت مباحثے پر مجبور ہوئی کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اجرا کرے''

کئی محاذوں پر چیلنجوں کے باوجود، امکان اس بات کا ہے کہ حالیہ تاریخ کا یہ ایسا لمحہ ہو جب افغانستان سازگار سیاسی تصفیے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ بات پینٹاگان کی جانب سے اس ہفتے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے، جس میں حالیہ فوجی کشیدگی اور سفارتی اقدامات کے اثرات کی جانب دھیان مبذول کرایا گیا ہے۔

ششماہی تجزئے پر مبنی اس رپورٹ میں، جو امریکی کانگریس کو پیش کی جاتی ہے، پینٹاگان نے اس ہفتے افغانستان کی لڑائی کے بارے میں امریکی قانون سازوں کو ایک حالیہ تفصیلی رپورٹ دی ہے۔ رپورٹ میں افغانستان میں حاصل کردہ پیش رفت جون 2018 سے نومبر 2018 کی ششماہی میں درپیش چیلنجوں کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں افغانستان کو درپیش چیلنجوں میں سیاسی عدم استحکام، قومی سلامتی فورس کی صلاحیتیں اور دیگر علاقائی طاقتوں کی مداخلت سے متعلق جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''افغانستان کی موجودہ عسکری صورت حال تعطل کا شکار ہے۔ سال 2018میں اضافی مشیروں اور معاونین کے شامل ہونے سے صورت حال میں استحکام آیا، طالبان کی پیش قدمی کی رفتار میں کمی آئی جنھوں نے 2011 اور 2016ء کے دوران امریکی فوج میں کمی لانے کا فائدہ اٹھایا''۔

رپورٹ کے مطابق، ''سفارتی، مذہبی، فوجی اور سماجی دبائو بڑھانے کی بنا پر وضع کردہ حکمت علمی، ساتھ ہی بین الاقوامی کارروائی میں اضافے کی وجہ سے طالبان کی سینئر قیادت مباحثے پر مجبور ہوئی کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اجرا کرے''۔

اگست، 2017ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےافغانستان سے متعلق اُن کی انتظامیہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا اور انہی خطوط پر کارفرما رہنے کا عندیہ دیا تاکہ یہ ملک دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہ رہے، جس کے نتیجے میں وہ امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث نہ بنیں۔

اُس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ملک کی تعمیر نو کا کام بند کریں گے اور برعکس اس کے، دھیان امریکی قومی سلامتی کے مفادات کی جانب مبذول کریں گے۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ ''میں امریکی عوام کی مایوسی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں اس بیرونی پالیسی کے بارے میں بھی اُن کی مایوسی پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس میں بہت زیادہ وقت، توانائی، پیسے اور سب سے زیادہ یہ کہ اہم ترین زندگیاں قربان ہوئیں، یہ کوشش کرتے ہوئے کہ ملک کی تعمیر نو ہمارے معیار کے مطابق ہو''۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ نئی حکمت عملی نظام الاوقات کو چھوڑ کر صورت حال کی بنا پر تبدیل کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG