رسائی کے لنکس

logo-print

شام سے متعلق حکمتِ عملی میں تبدیلی زیر غور: پینٹاگان


امریکہ شام میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اس عہد کے ساتھ کہ داعش کی خودساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد ابتدائی بحالی کے کام میں مدد دی جا سکے۔

امریکی حمایت یافتہ قوتوں نے گذشتہ اکتوبر میں داعش کے دہشت گردوں سے اُن کا شام کا دارالخلافہ واگزار کرا لیا تھا۔ تب سے، سیرئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنا دھیان داعش کے باقی ماندہ عناصر کا صفایا کرنے پر مرکوز کر لیا ہے۔

لیکن، خیال یہی ہے کہ ’ایس ڈی ایف‘ کے زیر کنٹرول علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے کہا ہے کہ ’’حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کا‘‘ یہ درست وقت ہے۔

میٹس نے جمعے کے روز پینٹاگان میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم جو انداز اپنائیں گے وہ جارحانہ، رقبے پر قبضے کی جگہ بحالی پر مبنی ہوگا۔ اس کے لیے آپ سرزمین پر زیادہ امریکی سفارت کار دیکھیں گے‘‘۔

میٹس نے وقت کے تعین سے متعلق کوئی بات نہیں کی، آیا شام میں مزید سفارت کاروں اور دیگر سولین اہل کاروں کی آمد کب تک متوقع ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس کام کو کسی طور پر تعمیر نو نہیں خیال کرنا چاہیئے۔ اس ضمن میں رد عمل کے لیے ’وائس آف امریکہ‘ نے محکمہٴ خارجہ سے رابطہ کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’’جب آپ مزید سفارت کاروں کو لاتے ہیں، وہ خدمات کی بحالی کا ابتدائی کام سنبھالتے ہیں۔ وہ کانٹریکٹروں کو لاتے ہیں۔ اس طرح کا معاملہ۔ بین الاقوامی رقوم کے انتظام کا معاملہ آتا ہے، جس کا عمل دخل ہوگا، تاکہ پیسے غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں‘‘۔

میٹس نے کہا کہ یہ ایک ’’بہت بڑا کام ہوگا‘‘ کہ ملبہ اٹھایا جائے، دیگر بنیادی سہولیات بحال ہوں، پھر سے اسکول کھل جائیں۔ کوشش یہ رہے گی کہ علاقے کو دیسی ساختہ آلات سے صاف کیا جائے، جنھیں اپنے قبضے کے دوران داعش نے نصب کیا ہو۔

سفارت کاروں اور سولین آبادی کو سکیورٹی کی فراہمی کے علاوہ داعش کے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے تربیت میں مدد اور امدادی کام میں اعانت کےلیے اندازاً 2000 امریکی فوجی شام میں رہیں گے۔

میٹس نے کہا کہ دریں اثنا، امریکی حمایت یافتہ افواج داعش کے جنگجوؤں سے نبردآزما ہونے کا کام جاری رکھیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG