رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی چیئرمین شپ سے مستعفی


پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین کے منصب سے استعفی دے دیا ہے۔

اب اُن کی جگہ ڈٓاکٹر محمد امجد کو پارٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر امجد آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کے منصب پر کام کر رہے تھے۔

ڈاکٹر امجد نے وائس آف امریکہ سے مختصر گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف نے اپنا استعفی الیکشن کمیشن کو بجھوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پرویز مشرف نے صوبہٴ خیبر پختونخواہ کے پہاڑی ضلع چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 1 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ لیکن، اُنھیں مسترد کر دیا گیا۔

اس سے قبل رواں ماہ پاکستان کی عدالت عظمٰی نے ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئندہ عام انتخابات میں حصے لینے کی اجازت دیتے ہوئے اُن کی تاحیات نا اہلی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

لیکن، عدالت عظمٰی کے حکم کے باوجود جب پرویز مشرف وطن واپس نہیں آئے تو سپریم کورٹ نے اُن کی معطلی کے فیصلے کو بحال کر دیا۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ قانونی دشواریوں کے باعث پرویز مشرف ملک کے اندر آ کر پارٹی معاملات اور مہم نہیں چلا سکتے تھے۔ اس لیے اُنھوں نے جماعت کے چیئرمین کی حیثیت سے استعفی دے دیا۔ لیکن، وہ بدستور جماعت کے سرپرست رہیں گے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے 2010 میں آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنائی تھی اور 2013 کے عام انتخابات میں اُنھوں نے حصہ لینے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ لیکن، اُنھیں پشاور ہائی کورٹ نے نااہل قرار دے دیا تھا۔

عام انتخابات سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پرویز مشرف نے ملک کا آئین توڑا اس لیے اُن پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی۔

پرویز مشرف 2016 میں بیرون ملک چلے گئے تھے جس کے بعد سے وہ وطن واپس نہیں آئے۔

سابق فوجی صدر کی سیاسی جماعت عوام میں جڑیں نہیں پکڑ سکی اور نا ہی کوئی بڑے سیاسی نام اس کا حصہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG