رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: مقدمات کے بغیر قید افراد کی فوری رہائی کا حکم


فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے 'ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس' کو کالعدم قرار دینے کے تفصیلی فیصلے میں حراستی مراکز میں بغیر مقدمات کے قید شہریوں کو سات دن کے اندر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ججز کی عالمی تنظیم 'انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ' کے تحفظات کو بھی ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا ہے۔ تنظیم نے مذکورہ آرڈیننس کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں دو رکنی بینج نے 17 اکتوبر کو 'الیکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس' کی پورے صوبے میں توسیع کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے مذکورہ قانون کے تحت قائم حراستی مراکز کو صوبائی محکمۂ جیل خانہ جات اور اس میں قید افراد کو انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) کی تحویل میں دینے کا حکم دیا ہے۔

پشاور کے متعدد سینئر وکلاء 'ایکشن ان ایڈ سول پاور آرڈیننس' کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج شیر محمد خان نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں برسوں قید رہنے والے بے گناہ لوگوں کو رہائی مل جائے گی۔

اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد سابق قبائلی علاقوں سے حراست میں لیے گئے مبینہ ملزمان ریاستی اداروں کی جانب سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کیے جانے کے باعث سول عدالتوں سے رہائی حاصل کر رہے ہیں۔

ضلع خیبر اور مہمند سے حراست میں لیے گئے درجنوں مشتبہ افراد کے خلاف درج مقدمات پشاور کی عدالتوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اب تک تقریباً 18 ایسے مقدمات پشاور ہائی کورٹ اور دیگر دہشت گردی کی عدالتوں نے نمٹائے ہیں۔ زیادہ تر فیصلوں میں ملزمان کو باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ایک عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزمان کی رہائی یا سزا پانے والوں کی درست تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ لیکن، متعلقہ دفتر نے انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث متعدد ملزمان کی عدالتوں سے باعزت بری ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی محکمۂ جیل خانہ جات کے حکام نے بتایا ہے کہ ’ایکشن ان ایڈ آف سول پاور‘ کےتحت حراستی مراکز میں رکھے گئے قیدیوں کی تعداد کے بارے میں بھی ان کے پاس کسی قسم کی تفصیلات نہیں ہیں جب کہ محکمۂ پولیس کے عہدے داروں نے بھی ان قیدیوں کی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سابق قبائلی علاقوں کے زیر تصفیہ مقدمات رواں سال جولائی اور اگست میں سول عدالتوں کو منتقل ہونا شروع ہوئے ہیں۔ اب تک تقریباً 4 ہزار مقدمات پشاور ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔

ان مقدمات میں امریکی خفیہ اداروں کی معاونت کے الزام میں 23 مئی 2011 سے گرفتار شکیل آفریدی کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ شکیل آفریدی کو قبائلی انتظامیہ نے 23 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کی ہوئی ہے۔ اس اپیل کی سماعت بھی اب پشاور ہائی کورٹ میں شروع ہو چکی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ایک وکیل فرہاد آفریدی ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حراستہ مراکز میں برسوں سے قید افراد کے خلاف بنائے گئے مقدمات انتہائی کمزور ہیں۔ اسی بنیاد پر ملزمان عدالتوں کے ذریعے با آسانی رہا ہوجاتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کے فوجی مقدمات کی دفعہ سی آر پی سی 365 کے تحت اگر مقدمہ کمزور بنیادوں پر قائم ہوتا ہے تو اس قسم کے مقدمات عدالتوں سے جلد نمٹانے میں آسانی ہوتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص امین جان کو سیکیورٹی فورسز نے 2016 میں گرفتار کیا تھا اور جون 2018 کو اسے حراستی مرکز منتقل کرتے وقت اس کا مقدمہ سابق خیبر ایجنسی کی انتظامیہ کو 15 سال قید کی سزا دینے کی تجویز کے ساتھ بھجوایا گیا تھا۔

ملزم کی تاریخِ پیدائش 1997 ہے جب کہ استغاثہ نے انہیں 2008 میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے مسلح تصادم کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور بعد میں انہیں 2009 اور 2010 میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ جس وقت امین پر دہشت گردی کے پہلے واقعے کا الزام لگایا گیا تو اُس وقت ان کی عمر صرف 10 سال تھی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیا۔

پشاور کے ایک اور وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ نے بھی فرہاد آفریدی کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ریاستی ادارے یا استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات میں نامزد ملزمان بہت آسانی سے رہائی پا لیتے ہیں۔

دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں صوبائی حکام کسی قسم کا تبصرہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ البتہ محکمۂ قانون کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مبینہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر ٹھوس شواہد کے ساتھ مقدمات درج کیے جائیں اور عدالتی کارروائی کے ذریعے سخت سزا دلائی جائے۔

ان کے بقول جب تک دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا نہیں دی جاتی تب تک دہشت گردی اور تشدد کے واقعات پر قابو پانا مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG