رسائی کے لنکس

logo-print

'گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری کشمیر میں ہوتی ہے'


فائل فوٹو

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گُردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے کیسز کافی کم ہو گئے ہیں جب کہ اِس میں ملوث گروہ اب اپنا نیٹ ورک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقوں میں چلاتے ہیں۔

دو دن قبل معروف اداکار عمر شریف کی صاحبزادی حرا عمر کی ڈاکٹر فواد ممتاز کے ہاتھوں گردوں کی غیر قانونی تبدیلی کے باعث ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔ یہ وہی ڈاکٹر فواد ممتاز ہیں جو پہلے ہی کئی کیسز میں مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔

حرا عمر کے بھائی اور عمر شریف کے صاحبزادے جواد عمر کے مطابق 34 سالہ حرا عمر گردوں کے مرض میں مبتلا تھیں۔ جن کے گردے کی پیوند کاری کشمیر میں ہوئی۔

اُن کے بقول، وہ تین ہفتوں تک وہاں ایک نجی کلینک میں زیر علاج بھی رہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جواد عمر نے بتایا کہ کشمیر میں حرا کی طبیعت بہتر نہ ہونے پر پانچ روز قبل انہیں لاہور لایا گیا۔ جہاں وہ پانچ روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔

ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ حرا عمر گردوں کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ان کے گردے کی پیوندکاری کے لیے کشمیر کے ڈاکٹر سے 34 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا تھا اور وہ تین ہفتے تک کلینک میں زیر علاج رہیں۔ حرا عمر کی موت گردوں کے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی غفلت سے ہوئی۔

گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے واقعات گزشتہ سال اگست میں اُس وقت سامنے آنا شروع ہوئے تھے جب دورانِ آپریشن مریضوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے لگی تھی۔

اب ایک مرتبہ پھر پنجاب میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ لاہور کے رہائشی عامر فراز کا آپریشن 25 مئی 2019 کو کیا گیا تھا۔

عامر فراز کی اہلیہ مہوش عامر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور دیگر تین مختلف خاندان گردوں کی پیوندکاری کے لیے ڈاکٹر فواد ممتاز کے دوست ڈاکٹر رشید کے پاس گئے تھے۔

مہوش عامر کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر فواد ممتاز اور ڈاکٹر رشید کو مبینہ طور پر 18 لاکھ روپے دیے تھے جب کہ اُن کے شوہر کے آپریشن سے قبل ہونے والے آپریشنز کروانے والے مریضوں کے اہل خانہ نے 28 لاکھ، 27 لاکھ اور 30 لاکھ روپے دیے تھے۔

مہوش عامر کا دعویٰ تھا کہ ایک مریض اور ڈونر ایسے بھی تھے جن کا گردہ تبدیل ہی نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بہاول نگر لے جا کر ایک کمرے میں قید کر دیا گیا تھا۔ باہر تالے لگا دیے گئے تھے اور ہم سے ہمارے موبائل فون بھی لے لیے گئے تھے۔ جہاں میرے شوہر کا آپریشن ہوا تھا وہ کوئی اسپتال نہیں تھا بلکہ ایک گھر کو کرایہ پر لیا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد ہم نے الٹرا ساؤنڈ کرایا تھا۔ میرے شوہر کا گردہ تو تبدیل کیا گیا تھا لیکن طریقہ کار غلط تھا۔

لاہور ہی کے ایک اور رہائشی فیصل عدنان کو آپریشن کے لیے مبینہ طور پر لاہور سے راولپنڈی لے جایا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل عدنان کے والد حکیم ناصر نے بتایا کہ انہوں نے گردے کی غیر قانونی پیوند کاری کے لیے مبینہ طور پر 18 لاکھ روپے دیے تھے۔ حکیم ناصر کے مطابق اُن کے بیٹے محمد فیصل کے آپریشن کے تین سال بعد ہی اُن کے بیٹے کا گردہ ناکارہ ہو گیا۔

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری سے ذرائع ابلاغ سے جڑے افراد بھی محفوظ نہیں ہیں۔

پاکستان کے ایک بڑے صحافتی ادارے میں بطور پروڈکشن کوآرڈینیٹر فرائض سر انجام دینے والے کارکن عبدالمتین خان اپنی اہلیہ کو بھی گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے عوض کھو چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمتین نے بتایا کہ اُن کی اہلیہ سروش متین گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں۔

عبدالمتین نے الزام عائد کیا کہ اسپتالوں میں ٹیکنیشن ایسے ڈاکٹروں اور گروہوں کے آلہ کار ہوتے ہیں اور ڈھونڈتے ہیں کہ کون سا مریض گردے تبدیل کرانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری بیوی کا آپریشن ضلع بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد میں ہوا تھا اور میں نے آپریشن کے لیے 25 لاکھ روپے دیے تھے۔ آپریشن کامیاب ہوا یا نہیں یہ تو نہیں معلوم لیکن دوران آپریشن ہی میری بیوی کا انتقال ہو گیا۔ بہت سے مریضوں کے آپریشن چشتیاں اور بہاول نگر میں بھی ہوئے تھے۔

ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور میں بھی گزشتہ سال گُردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے واقعات سامنے آئے تھے۔ جہاں سے 11 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

حرا کے بھائی جواد عمر نے ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو درخواست دے دی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی بہن 2018 سے ڈائیلاسسز کرا رہی تھیں

ان کے بقول کسی ایجنٹ کے ذریعے وہ ڈاکٹر فواد ممتاز تک پہنچے جن کی غفلت سے حرا کا انتقال ہو گیا۔

وائس آف امریکہ نے جواد عمر سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن وہ دستیاب نہیں ہو سکے۔

ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی

فروری 2017 میں پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق فروری 2017 سے لے کر اب تک گُردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے خلاف کم و بیش 60 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کا مقصد گُردوں کی غیر قانونی پیوند کاری روکنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی درست رہنمائی کرنا اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

اتھارٹی کے پاس 50 کے قریب سرکاری اور نجی اسپتال رجسٹرڈ ہیں۔ جہاں مریض جاتے ہیں اپنا اندراج کراتے ہیں اور وہاں سے اُن کا ریکارڈ پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کو منتقل کیا جاتا ہے۔

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی دو دن کے اندر مریضوں کو گردوں کی پیوندکاری کا اجازت نامہ دے دیتی ہے۔ جس میں اتھارٹی دیکھتی ہے کہ اِس میں کوئی اور پیوندکاری تو نہیں ہو رہی اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس کو اجازت دی گئی ہے آیا دونوں اشخاص وہی ہیں۔

حرا عمر کے انتقال کی خبر پر تحقیقات

عمر شریف کی بیٹی حرا عمر کے انتقال کی خبر سامنے آنے پر پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی بھی حرکت میں آئی۔

حرا عمر کی موت کے حقائق جاننے کے لیے پنجاب اتھارٹی نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ جس کے کنوینئر عدنان احمد بھٹی کے مطابق گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری زیادہ تر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں بھمبر اور دیگر شہروں میں ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عدنان احمد نے بتایا کہ حال ہی میں بحریہ انٹرنیشنل اسپتال لاہور سے پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے پاس ایک درخواست آئی تھی جب اُن کی ٹیم بحریہ انٹرنیشنل اسپتال گئی تو معلوم ہوا کہ وہاں پر حرا عمر نامی مریضہ اسپتال میں داخل ہونے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔

ان کے بقول اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ حرا عمر، جو لاہور کے ماڈل ٹاؤن کی رہائشی ہیں، نے کشمیر سے گردوں کی پیوند کرائی ہے اور اِن کے گردے 95 فی صد ناکارہ ہو چکے ہیں۔ جس نے مریضہ کے سارے جسم کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ حرا عمر کے گُردوں کا ڈائیلسز نیشنل اسپتال لاہور میں ہوتا تھا۔ دوران ڈائیلسز ساتھ والے مریض کی اٹینڈنٹ نے گوجرانوالہ کے رہائشی محمد افضل کا رابطہ نمبر دیا۔ محمد افضل نے حرا عمر کے اہل خانہ سے ڈاکٹر فواد ممتاز کی ملاقات کرائی۔ ڈاکٹر فواد ممتاز نے کشمیر میں حرا عمر کا 34 لاکھ روپے میں آپریشن کیا جو ناکام رہا۔

ڈاکٹر فواد ممتاز کون؟

ڈاکٹر فواد ممتاز لاہور جنرل اسپتال میں تعینات ہیں۔ پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فواد ممتاز پہلے بھی کئی کیسز میں ملزم رہے ہیں جو کم وبیش 18 ماہ جیل میں بھی قید رہے۔

اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فواد ممتاز پر پہلا مقدمہ فروری 2017 میں درج کیا گیا تھا۔ جو لاہور کی ای ایم ای سوسائٹی میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کیا کرتے تھے۔ جن کی ضمانت عدالت عالیہ لاہور سے ہوئی تھی۔

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کی دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے نے ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف اپنا چلان مکمل نہیں کیا تھا جس کے باعث لاہور ہائی کورٹ نے اُنہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ ڈاکٹر فواد ممتاز کو ایک ہفتہ قبل فیصل آباد میں بھی گُردوں کی غیر قانونی پیوندکاری پر حراست میں لیا گیا تھا۔

گروہ گرفت میں کیوں نہیں آتا

حرا عمر کی ہلاکت کے بعد پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی نے ڈاکٹر فواد ممتاز کی گرفتاری کے لیے لاہور میں اُن کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مارا لیکن اُن کی اہلیہ نے اتھارٹی کو بتایا کہ وہ اپنے آبائی علاقے چنیوٹ گئے ہوئے ہیں۔

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فواد ممتاز اپنی ضمانت قبل از وقت کرا لیتے ہیں اور انہوں نے حرا عمر کے واقعہ میں ملتان عدالت میں ضمانت کے لیے پیش ہونا تھا لیکن وہ وہاں بھی پیش نہیں ہوئے۔

کشمیر ہی کیوں؟

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر ویجیلنس کے مطابق 2012 تک گردوں کا ٹرانسپلانٹ وفاقی حکومت دیکھا کرتی تھی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے صوبوں کو با اختیار کر دیا گیا۔ جس کے بعد پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں اتصوبائی اتھارٹی بن گئی ہے۔ پنجاب میں اتھارٹی بننے سے ڈاکٹر فواد اور اُن کے گروہ کا ایک بھی کیس صوبے میں سامنے نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پنجاب کے قوانین لاگو نہیں ہوتے اور کشمیر پنجاب کی اتھارٹی کے زیر اثر بھی نہیں آتا اِسی لیے وہاں غیر قانونی آپریشن ہو رہے ہیں۔

گُردے فروخت کون کرتے ہیں؟

پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق گردے فروخت کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق مسیحی برادری، چنگ چی رکشہ چلانے والوں اور اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے افراد سے ہوتا ہے۔

اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں گردے فروخت کرنے والے افراد آسانی سے مل جاتے ہیں۔

ریکارڈ میں سامنے آتا ہے کہ گردہ بیچنے والے افراد کو ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے ہیں جب کہ غیرقانونی طور پر گُردہ لگانے والے شخص سے 30 سے 34 لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق گُردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث گروہ کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے اور بعض ایجنٹوں اور گروہوں کے کوائف حاصل کر لیے گئے۔ جن کا تعلق لاہور، بہاول پور، اوکاڑہ، قصور، بھکر، منڈی بہاؤالدین اور دیگر علاقوں سے ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق گُردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں محکمہ صحت کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔ جس پر ادارے کی ٹیکنیکل ٹیم کام کرتی رہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG