رسائی کے لنکس

logo-print

پیر افضل قادری کا معافی نامہ، ریٹائرمنٹ اور بہاولپور پروفیسر قتل سے لاتعلقی کا اعلان


فائل

تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنما پیر افضل قادری نے منگل کے روز ایک ویڈیو بیان میں حکومت، عدلیہ اور چیف آف آرمی سٹاف کی ’’دل آزاری کرنے پر‘‘ معذرت کرتے ہوئے، ’’علالت کے باعث تحریک سے ریٹائرمنٹ کا اعلان‘‘ کیا ہے۔

تحریک لبیک کے مرکزی رہنما کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری ہوا ہے جس میں وہ اپنا لکھا ہوا بیان پڑھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

بیان میں انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2018 میں آسیہ بی بی کیس کے سلسلے میں تحریک لبیک نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کال دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور کئی مقامات پر روڈ بلاک ہونے کے باعث عوام الناس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اس موقعے پر ’’جذبات کے عالم میں‘‘ انھوں نے ملک کے اعلیٰ عہدے داران اور سیاسی رہنماؤں سے متعلق ‘‘انتہائی سخت کلمات ادا کیے’’۔

انہوں نے کہا کہ وہ فالج، گردوں اور دل کے مریض ہیں، ساتھ ہی انہیں شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی عارضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جب وفاقی اور صوبائی حکومت سے مذاکرات ہوئے اور ‘‘جس کسی کی بھی دل آزاری ہوئی یا تکلیف پہنچی اس پر معذرت کی گئی’’۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بہاولپور میں یونی ورسٹی کے ایک طالب علم نے ایک پروفیسر کو مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں میڈیا میں کہا گیا کہ اس طالب علم کا تعلق تحریک لبیک کے ٹکٹ ہولڈر سے تھا۔

تحریک لبیک کے مرکزی لیڈر نے اس واقعے کو ‘‘ناحق قتل’’ کہا؛ اور تحریک لبیک کی طرف سے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک کی جانب سے ایسے نامناسب واقعات کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

پیر افضل قادری نے کہا کہ تحریک لبیک کے ذمہ داران پاکستان کے آئین و قانون اور تمام اداروں کا احترام کریں گے اور پاکستان کے تحفظ کے لئے پاک فوج کے شانہ بشانہ رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG