رسائی کے لنکس

logo-print

مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟


موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ کا بیان

چند روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے ننکانہ صاحب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی تو انہوں نے ردِعمل میں میاں افتخار کے بیٹے کو مار دیا اور بلور خاندان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ لہذٰا جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کے ساتھ ہیں اُنہیں بھی خطرہ ہے۔

سینئر تجزیہ کار اور اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کی یہ دھمکی کسی فرد یا جماعت کو نہیں بلکہ ایک طرح سے ریاست کو دی گئی ہے جس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔

سینئر صحافی اور انگریزی اخبار 'ڈان' کے ایڈیٹر اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ اعجاز شاہ کا ہمیشہ سے یہی انداز ہے کہ وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ اُن پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اُن کو تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد اِس طرح کی بات کرنی ہوتی ہے۔ جس میں اپنی مرضی کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ اعجاز شاہ صاحب اپنے بیان کی خود وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور وہ کیا کہہ کر گئے ہیں۔

آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام جلسوں میں کیوں؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں ریاستی اداروں کے خلاف جو بیانیہ استعمال کر رہی ہیں، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کی بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتیاں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔

اتوار کو گلگت بلتستان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جب یہ لوگ اُنہیں بلیک میل کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے اب آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔ اگر یہ چور اور ڈاکو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے دونوں کا بالکل ٹھیک انتخاب کیا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کا بطور آرمی چیف انتخاب نواز شریف نے کیا تھا۔ اُس کے بعد اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا۔

اُن کے بقول اُس میں بھی عمران خان اکیلے نہیں تھے۔ اِس فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی پارٹی بھی شامل تھی۔ البتہ فیض حمید کے بارے میں وہ کہتے سکتے ہیں کہ وہ اُنہی کا انتخاب ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ شاید عمران خان، جنرل باجوہ اور فیض حمید کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے آپ کو نشانہ بنایا ہوا ہے تو وہ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اِس صورتِ حال میں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اُن کا انتخاب درست تھا تو وہ بھی نواز شریف کی طرح فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ "میرا نہیں خیال کہ باجوہ صاحب اور فیض حمید کو اِس وقت عمران خان کی اسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اِس وقت اگر عمران خان اُن کا نام لے کر یہ کہیں کہ ہاں اِن کا میں نے انتخاب کیا ہے اور یہ میرا درست انتخاب ہیں تو دراصل وہ نواز شریف کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں، لہذٰا جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اِس کا فائدہ نہیں نقصان ہے۔"

صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض کو جتنا 'پولیٹیسائز' ہونا تھا وہ ہو گئے۔ وہ براہِ راست کسی کو جواب نہیں دے سکتے جب کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان، فوج، آرمی چیف اور جنرل فیض کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوشش ہے کہ کسی طریقے سے یہ پارٹنر شپ (شراکت داری) ٹوٹ جائے۔

اُن کے بقول "ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت محدود گفتگو کی اور وہ نہیں چاہتے کہ براہِ راست کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اُلجھا جائے۔ اِس پس منظر میں وزیراعظم نے بطور چیف ایگزیکٹو بات کی ہے۔"

اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی بیان سامنے آتا ہے تو عام آدمی کو یہی لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے جو ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اشعر رحمان نے کہا کہ جس طرح ایاز صادق نے بیان دیا اور اس نوعیت کے دیگر بیانات ماضی میں کم ہی ملتے ہیں۔

اُن کے بقول پاکستان کی سیاست کو ایک خاص تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس میں بہت سارے کنگ میکرز ہیں۔ ہمیشہ سے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کنگ میکرز ہوتے ہیں۔

کیا مریم نواز کے بیانیے میں نرمی آ رہی ہے؟

اتوار کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کے بیانیے میں ریاستی اداروں بارے بیانیے میں قدرے نرمی محسوس کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ "آپ لوگوں نے وردی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی لیکن دیکھنا ہے کہ وردی کو داغ دار کرنے والے دو، تین کردار کون سے ہیں؟"

صابر شاکر کی رائے میں شریف خاندان کا صرف ایک مسئلہ ہے یہ انقلابی ہرگز نہیں ہیں۔ یہ مدبر بھی نہیں ہیں۔ یہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اُن کے بقول ہمارے سامنے جنرل جیلانی اور جنرل ضیاءالحق کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اِن کے کوئی اصول نہیں ہیں۔ انہوں نے مشرف کو غیر آئینی حکمران کہا، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں اسی مشرف سے وزارتوں کے حلف لیے۔

صابر شاکر کے بقول "یہ انقلابی یا نظریاتی سیاست نہیں ہو رہی۔ یہ مفادات کی سیاست ہے۔ شریف خاندان اِس وقت ڈو اور ڈائی (مر جاؤ یا مار دو) کی پوزیشن میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاست میں اُنہوں نے بھرپور قسم کی مزاحمت نہ کی تو وہ اپنی قدر کھو دیں گے۔"

صابر شاکر کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج پر تنقید کے معاملے پر شہباز شریف کا خاندان بالکل الگ تھلگ نظر آتا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ مریم نواز کے بیانیے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے کیوں کہ بطور ادارہ نواز شریف نے فوج کی کبھی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی مریم نواز کر رہی ہیں۔

اُن کا یہ مؤقف ہے کہ فوج میں کچھ عناصر خرابی کرتے ہیں اور اُن کی مزاحمت ایسے عناصر کے خلاف ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ "میں نہیں سمجھتا کہ مریم نواز نے فوج کو بطور ادارہ کبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ نام لیتی ہیں لوگوں کے کچھ انفرادی شخصیات کے نام لیتی ہیں۔ نواز شریف بھی نام لیتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح ہے۔"

اشعر رحمان کی رائے میں جب سے مریم ںواز دوبارہ متحرک ہوئی ہیں۔ اُن کے لہجے میں اُس طرح کی سختی نہیں ہے جتنی میاں نواز شریف کے لب و لہجے میں ہے۔ اُن کے بقول چند روز قبل شاہد خاقان عباسی بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرے کی تجویز دے چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بات چیت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔

احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے: مریم نواز
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:53 0:00

کیا ن لیگ میں فارورڈ بلاک بن پائے گا؟

ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عبدالقادر بلوچ کی جانب سے فوج مخالف بیانیے پر پارٹی چھوڑنے کے اعلان نے بھی سیاسی میدان میں ہلچل پیدا کر دی ہے جس کے بعد پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کی چہ موگوئیاں کی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کار اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک اُسی وقت بنتا ہے جب سیاست دانوں کی بہت بڑی تعداد ہو جو الگ ہو جائے یا پھر چند بڑے پارٹی رہنما جماعت چھوڑ دیں۔

اشعر رحمان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ابھی فی الحال آج کے دن تک فارورڈ بلاک میں کوئی بڑا نام آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ دو چار دن میں یہ بات غلط ثابت ہو جائے۔ نہ تو ابھی اُس میں بڑے رہنما شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی بہت بڑی تعداد ہے۔

اشعر رحمان کہتے ہیں کہ "(ن) لیگ کا جو فارورڈ بلاک ہے وہ تو شہباز شریف کی صورت میں ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُس سے زیادہ فارورڈ بلاک کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اُن سے بات کرنی ہے تو وہ موجود ہیں۔ اِس پارٹی میں تو پہلے سے ہی بہت گنجائش موجود ہے۔"

صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ بیانیے کا کوئی بھی ساتھ نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ ملک کی فوج کے خلاف کھڑے ہو کر نہ تو سیاست ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس کی حمایت کر سکتا ہے۔

صابر شاکر کہتے ہیں کہ "سات ستمبر کے بعد یہ سب کچھ خراب ہوا ہے۔ سات ستمبر سے پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سات ستمبر کو محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کے لیے ریلیف لینے آرمی چیف کے پاس گئے، اگر آرمی چیف اُن کی بات مان لیتے تو مسلم لیگ (ن) کا یہ بیانیہ نہ ہوتا اور یہی لوگ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے گُن گا رہے ہوتے۔"

حامد میر کی رائے میں "قادر بلوچ اگر مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ وہ جب مسلم لیگ (ن) میں آئے تھے تو وہ آئے نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ خود اُن کو لائے تھے۔ اُن کی واحد قابلیت یہ تھی کہ اُن کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہو سکتا ہے کہ راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں بھی اُن کا کردار ہو۔"

حامد میر کے بقول "نواز شریف کے دور میں جب لاپتا افراد کے لیے نواز شریف نے کچھ کرنے کی کوشش کی تھی اُس میں بھی قادر بلوچ ایک رکاوٹ تھے جب کہ جنرل مشرف کو ریلیف دلوانے میں بھی اُن کا کردار رہا ہے۔"

حامد میر کے بقول پارٹی کے اندر ایک سیاسی رہنما یا سیاسی کارکن کے طور پر کبھی بھی ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب کی پہچان نہیں بن سکی۔ اُن کی پہچان صرف یہ ہے کہ ثناء اللہ زہری کے وہ بہت بڑے حمایتی ہیں اور ثناءاللہ زہری اُن کے قبیلے کے سردار ہیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ کوئٹہ میں جب پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا تو (ن) لیگ کی جانب سے اُنہیں یہی بتایا گیا تھا کہ اُنہوں نے ثناءاللہ زہری کو اسٹیج پر بٹھانے کی کوشش کی، لیکن پارٹی نے اُن کی بات نہیں مانی۔ اَب اگر یہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ قادر بلوچ صاحب کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG