رسائی کے لنکس

'ثاقب نثار کے پاس اپنی ناانصافیوں کا جواب نہیں ہے'


پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سامنے آئیں گے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کو جواب دیں گے۔ کیوں کہ ان کے پاس اپنی ناانصافیوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے بقول وہی جعلی حکومت ہے اور یہ وہی عدالتیں ہیں۔ وہی طاقت کا غلط استعمال ہے۔ سازشی عناصر موجود ہیں۔ اسی دورِ حکومت میں آج نواز شریف کے حق میں تیسری بڑی گواہی عدالت سے سامنے آئی ہے۔ یہ امید نہیں تھی کہ یہ عناصر حکومت میں ہوتے ہوئے عیاں ہو جائیں گے اور سچ سامنے آ جائے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ عدالت کو سب سے پہلے جس شخص کو نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا وہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار تھے۔ ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ان کو کیا پڑی کہ وہ عدالت میں آ کر جواب دیں گے یا وہ عدالتوں کے چکر لگائیں گے۔ تو یہ ان کی نا انصافی کا ثبوت ہے۔ نواز شریف چوں کہ بے قصور تھے تو اس لیے انہوں نے عدالتوں کا سامنا کیا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج جسٹس (ر) رانا شمیم نے 10 نومبر کو لندن میں ایک وکیل کے سامنے اپنے بیانِ حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پر اثر انداز ہوئے تھے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے مریم نواز کے الزامات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا تاہم جج رانا شمیم کے بیانِ حلفی کو اُنہوں نے مسترد کر دیا تھا۔

جسٹس رانا شمیم کے انکشافات پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ یہ چار پانچ سال پرانی بات ہے، لیکن میں نے کبھی بند کمرے میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔ کسی جج کو ایسے فون نہیں کیے۔ میں چیف جسٹس آف پاکستان تھا، میں اتنا بیوقوف تو نہیں تھا کہ میں ایسے فون کسی کے سامنے بیٹھ کر رہا ہوتا۔ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے مزید کہا کہ جس جج ارشد ملک نے نواز شریف کو سزا دی تھی۔ انہوں نے بھی اپنی زندگی میں نواز شریف کے حق میں گواہی دی تھی۔

رانا شمیم کے بیانِ حلفی پر سماعت: عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:27 0:00

مریم نواز کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹ کی کہ مریم نواز نے آج ایک بار پھر جھوٹ بولا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مریم صفدر کے نام جو چار اپارٹمنٹ ہیں ان کی رسیدیں کہاں پر ہیں۔ لوٹ مار کا پیسہ کس طرح لندن بھجوایا گیا۔ آج اس کا جواب دینے کی بجائے ججوں، گواہوں، اداروں اور عدلیہ کو متنازع کیا جا رہا ہے اور یہ ان کا پرانا وطیرہ ہے۔

'25 جولائی کو الیکشن کرانے کا وعدہ پورا کر دیا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:03 0:00

'انہیں مالک ثابت کریں گے تو وہ ذرائع بتائیں گے ناں'

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز کی اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب کی ٹیم سے ایون فیلڈ فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات کیے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ کسی کو ٹرائل میں عوامی تاثر پر قصوروار کہہ کر سزا نہیں دے سکتے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ پہلے آپ انہیں مالک ثابت کریں گے تو وہ ذرائع بتائیں گے ناں۔

کیس کی سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ نیب کے پاس کوئی ایسی دستاویز نہیں جو ملکیت ثابت کرے۔

انہوں نے کہا کہ میرے دلائل کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے انہیں کہا کہ ابھی آپ کے پاس راستہ موجود ہے کیونکہ نیب پراسیکیوٹر کے دلائل کے بعد آپ جوابی دلائل بھی دے سکتے ہیں۔

اس پر عرفان قادر نے نیب پراسیکیوٹر کے بعد دلائل دینے کا کہا۔

نیب پراسیکیوٹر عثمان چیمہ نے کہا کہ یہ معاملہ فلیٹس کی خریداری کا ہے جو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کے ذریعے خریدے گئے، مریم نواز بینفشل اونر تھیں جنہوں نے اونر شپ چھپانے میں نواز شریف کی مدد کی۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے دو فروری 2006 کی ایک ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی جو جعلی ثابت ہوئی۔ کیپٹن (ر) صفدر نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر بطور گواہ دستخط کیے۔ پبلک نالج میں یہ بات ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔

اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کریمنل اپیل ہے۔ ہمیں قانونی طور پر بتائیں، میڈیا اور پریس یا پبلک نالج کی بات نہ کریں۔ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نوازشریف مرکزی ملزم ہوئے، کوئی والد اپنی بیٹی کو کوئی جائیداد گفٹ کرے تو کیا وہ اس سے پوچھ کر کرے گا؟

جسٹس عامر نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریداری میں اونر شپ چھپی ہوتی ہے۔ پراسیکیوشن نے شواہد سے اونر شپ ثابت کرنی ہے، میڈیا نالج پر نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اپارٹمنٹ کیسے خریدے گئے، اس کا سورس نہیں بتایا گیا۔

اس پر جسٹس محسن نے کہا کہ اگر خریدار سورس نہ بتائے تو بیٹی پر جرم کیسے ثابت ہو گا؟ جرم میں معاونت کیسے ثابت ہو گی؟

عثمان چیمہ نے کہا کہ اپریل 2016 میں پاناما لیکس پبلک ہوئی، پاناما کی بڑی لا فرم سے لاکھوں دستاویزات لیک ہوئی تھیں۔ اس میں دنیا بھر کے بڑے بڑے لوگوں کے نام آئے تھے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ اثاثے خریدنے کے ذرائع تو مرکزی ملزم نے بتانے ہیں۔ مرکزی ملزم نوازشریف نے اگر نہیں بتائے تو کیا مریم نواز کی ذمہ داری ہے یہ بتانا؟

جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ ہم نے سب کچھ قانونِ شہادت کے مطابق دیکھنا ہے۔ اس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں بینچ کے سوالات نوٹ کر رہا ہوں۔ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے جواب دوں گا۔

اس پر عدالت نے مریم نواز کی اپیل پر سماعت 24 نومبر تک ملتوی کر دی۔

XS
SM
MD
LG