رسائی کے لنکس

logo-print

مشال خان قتل کیس کا مبینہ مرکزی ملزم گرفتار


مشال قتل کیس کا مرکزی ملزم عارف خان گرفتاری کے بعد مردان پولیس کی تحویل میں ہے۔

ملزم عارف خان کا تعلق صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے اور وہ تحصیل کونسلر بھی ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبِ علم مشال خان کے قتل میں ملوث مبینہ اہم ملزم عارف خان کو مردان کی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم عارف خان کا تعلق صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے اور وہ تحصیل کونسلر بھی ہے۔

مردان کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر محمد سعید نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں عارف خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزم کو چمتار کے علاقے سے پولیس کی اسپیشل آپریشن ٹیم کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کے طالبِ علم مشال خان کو اس کے ساتھی طلبہ اور یونیورسٹی کے ملازمین نے توہینِ رسالت کا الزام لگا کر اپریل 2017ء میں قتل کیا تھا۔

مشال خان کے قتل کے فوراً بعد عارف خان نے دعویٰ کیا تھا کہ مشال خان کو اس نے قتل کیا تھا۔ عارف خان کے اس دعوے پر مشتمل ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی تھی۔

مشال قتل کیس کی سماعت کرنے والی ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ ماہ مشال کے قتل میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت، پانچ کو عمر قید اور 25 دیگر کو چار، چار سال قید کی سزائیں سنائی تھیں جب کہ 26 ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا تھا۔

تاہم 27 فروری کو پشاور ہائی کورٹ کے ابیٹ آباد بینچ نے 25 ملزمان کی سزائیں معاف کرتے ہوئے انہیں ذاتی مچلکوں کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG