رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لشکر طیبہ کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ


بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کالعدم لشکرِ طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر محمد نوید جٹ اور اُن کے ایک قریبی ساتھی کو ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد بدھ کو ایک آپریشن کے دوران مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جھڑپ شورش زدہ ریاست کے وسطی ضلع بڈگام کے چھترگام کوٹھی پوری گاؤں میں پیش آئی اور اس میں تین بھارتی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ جھڑپ کے دوران کئی نجی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ محمد نوید جٹ کا تعلق پاکستانی پنجاب کے علاقے ساہیوال سے تھا اور رواں سال فروری میں سرینگر میں پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے۔

بھارتی فوج نے انھیں جون 2014 میں کشمیر کے جنوبی ضلع کلگام سے گرفتار کیا تھا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے بتایا کہ جٹ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اکتوبر 2012 میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائین کو عبور کرکے وادیِ کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور گرفتاری سے قبل اور پولیس حراست سے فرار ہونے کے بعد سے اب تک دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

اُن پر حفاظتی دستوں اور ان کے ٹھکانوں اور عام شہریوں پر حملے کے الزامات تھے۔

پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے سرینگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جٹ چونکہ پاکستانی شہری تھا اس لئے نئی دہلی میں متعلقہ وزارت سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ اسلام آباد میں حکام سے رابطہ قائم کرکے اُنہیں اُس کی لاش کو لے جانے کے لیے کہیں۔

جٹ کے مارے جانے کی خبر پھیلتے ہی بڈگام کے بعض علاقوں میں مظاہرے کئے گئے اور پتھراؤ کرنے والے ہجوموں اور حفاظتی دستوں کے درمیان تصادم ہوا۔ حفاظتی دستوں نے پُرتشدد مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی۔ کئی افراد کے چوٹیں آئیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سنگباری میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔

پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’جٹ لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں کے اُسی گروپ کا حصہ تھا جسے ممبئی حملوں میں مجرم قرار دیا گیا تھا‘‘۔

پولیس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ’’جٹ اُن تین عسکریت پسندوں میں شامل تھا جنہوں نے اس سال 14 جون کو سرکردہ کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کو سرینگر میں اُن کے دفتر کے باہر دو پولیس محافظوں کے ساتھ قتل کیا تھا‘‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں مبینہ طور پر شامل ایک مقامی عسکریت پسند آزاد احمد ملک عرف دادا کو گذشتہ جمعے کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے بیجب ہاڑہ علاقے میں ہوئی ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔ اس جھڑپ میں پانچ اور مشتبہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

لشکرِ طیبہ نے شجاعت بخاری کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی تھی اور یہ جوابی الزام لگایا تھا کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے ہلاک کیا ہے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق، ’’تباہ شدہ مکانوں کے ملبے سے ایک مسلح عسکریت پسند برآمد ہوا، جنھیں کوئی چوٹ نہیں پہنچی تھی۔ مقامی لوگوں نے اُسے فوری طور پر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا‘‘۔
دریں اثنا، ایک بیان میں، لشکرِ طیبہ نے نوید جٹ اور اُن کے ساتھی کو خراجِ عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ"دونوں سپاہی مٹی کے سچے سپوت تھے‘‘؛ جنہوں نے، بقول اُس کے، ’’قابض افواج کے خلاف زندگی کی آخری سانس تک بڑی بہادری سے لڑا"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG