رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کی حلف برداری، تحریکِ انصاف کی تنقید


خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں ہوئی۔

نگران کابینہ کے ارکان سے صوبائی گورنر حاجی غلام علی نے حلف لیا۔

خیال رہے کہ کابینہ کے ارکان کا اعلامیہ آج ہی جاری کیا گیا تھا۔ صوبائی کابینہ کے حوالے سے نگران وزیرِ اعلیٰ اعظم خان نے ایک دن قبل گورنر سے ملاقات کی تھی۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ ان سے کابینہ کے ارکان کے حوالے سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔

گورنر نے 15 رکنی کابینہ نامزد کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کو 14 ورزا نے حلف اٹھایا ہے جب کہ ایک وزیر منظور آفریدی ملک سے باہر ہیں جو وطن واپسی پر حلف اٹھائیں گے۔

تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کی تشکیل پر تنقید

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام لگایا ہے کہ خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے وابستہ لوگ شامل کیے گئے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کابینہ میں پی ڈی ایم سے وابستہ افراد کو شامل کرکے ثابت کیا گیا ہے کہ موجودہ نظام میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا کہ صوبائی نگران کابینہ کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے تحریکِ انصاف نے کوئی نام نہیں دیا تھا البتہ اس میں حزبِ اختلاف کے نامزد افراد کو شامل کرنا افسوس ناک ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نگران کابینہ کی تشکیل گورنر ہاؤس کے بجائے ایوانِ وزیرِ اعلیٰ میں ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے انتخابات کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا۔

پاکستانی کرنسی کی گراوٹ جاری، ڈالر 260 روپے کا ہو گیا

پاکستان کی ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کا کیپ ختم کرنے کے بعد روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 260 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جمعرات کو اس میں زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی جانب سے منگل کو امریکی ڈالر پر کیپ ہٹانے کے اعلان کے بعد اوپن مارکیٹ کے ساتھ ساتھ انٹر بینک میں بھی مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

کراچی سے وی او اے کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق بدھ کو ڈالر کی قدر میں آخری اطلاعات تک 19 روپے 11 پیسے اضافہ ہو چکا ہےجس کے بعد یہ انٹر بینک میں 250 روپے کا ہو گیا ہے جب کہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 260 روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق روپے کی قدر میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے۔اس سے صورتِ حال میں آنے والے دنوں میں ترسیلات زر میں اضافے کے ساتھ برآمدات کی مد میں رکے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ میں تیزی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت سے کیپ ہٹانے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

’فواد چوہدری کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور نہ ہی ان کو ہتھکڑیاں لگائی جانی چاہیے تھیں۔

جمعرات کو گرفتار ہونے والے تحریکِ انصاف کے رہنما کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے حکام اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دے کر غلط کیا البتہ ان کو نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو صرف اس لیے جیل میں رکھا جانا غلط اقدام تھا کیوں کہ ہم حزبِ اختلاف میں تھے۔

خیبر پختونخوا کی 15 رکنی نگران کابینہ کا اعلان

خیبر پختونخوا کی 15 رکنی نگران کابینہ کا اعلان کر دیاگیا ہے۔گورنر حاجی غلام علی نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

نگراں کابینہ میں عبد الحلیم، سید مسعود شاہ، حامد شاہ، ساول نذیر ایڈووکیٹ، بخت نواز، فضل الہٰی، عدنان جلیل، شفیع اللہ خان، شاہد خان خٹک، حاجی غفران، خوش دل خان ملک، تاج محمد آفریدی، محمد علی شاہ، جسٹس ریٹائرڈ قیصر اور منظور خان آفریدی شامل ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق نگران کابینہ کے اعلان سے قبل نگران وزیرِ اعلیٰ اعظم خان اور گورنر غلام علی کے درمیان طویل ملاقات ہوئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان سے کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت نہیں کی گئی۔

' تحریکِ انصاف نے الیکشن کمیشن کے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی'

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف نے الیکشن کمیشن کے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی اور الیکشن کمیشن کے حکام اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں تین تین سال تک بے قصور افراد کو جیل میں رکھا گیا۔ اس حوالے سے انہوں شہباز شریف کے صاحب زادے سلیمان شہباز کی مثال دی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے پہلے امریکہ پر اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام لگایا، پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اب نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ معاشرے میں تقسیم کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔

XS
SM
MD
LG