رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کی جانب سے روسی دفاعی نظام کے تجربات ’باعث تشویش‘ ہیں: امریکہ


امریکی وزیر خارجہ، مائیک پومپیو نے ان اطلاعات کو 'تشویش کا باعث' قرار دیا ہے کہ ترکی نے روس سے خریدے ہوئے دفاعی نظام کے تجربات کئے ہیں۔ تاہم، انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان معاملات میں بہتری لانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، پومپیو نے کہا کہ امریکہ نے ترکی پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ترکی ایس 400 فضائی دفاع کے نظام کی مکمل تنصیب سے باز رہے۔

پومپیو سے اِن اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا کہ پیر کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے اوپر ترکی کے ایف 16 لڑاکا طیاروں نے پروازیں کیں۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’’ہاں۔ یہ بات باعثِ تشویش ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن ہم نا امید نہیں ہیں۔ہم ابھی تک ترکی سے بات کر رہے ہیں۔ ہم اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

ترکی کی جانب سے روس سے اپنے دفاع کے لئے ایس 400 ائیر ڈیفنس نظام کی خریداری کے معاملے پر امریکہ اور ترکی کے تعلقات تناو کا شکار ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ نظام نیٹو کے دفاعی نظام کے لیے مناسب نہیں، اور اس سے امریکہ کے ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جو امریکی طیارہ ساز کمپنی’لاک ہیڈ مارٹن‘ تیار کر رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ترک صدر طیب اردوان کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی، اور صدر ٹرمپ نے اس بات چیت کو ’شاندار‘ قرار دیا تھا۔

لیکن یہ واضح نہیں کہ نیٹو کے دونوں اتحادیوں نے ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم کے معاملے پر کوئی اتفاق رائے کیا تھا یا نہیں۔ا

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG