رسائی کے لنکس

logo-print

پابندیاں ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ ایران کو ہتھیار خریدنے نہیں دے گا، پومپیو


وزیر خارجہ مائیک پومپیو

اس سال اکتوبر میں ایران پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز کہا ہے اس کے بعد بھی امریکہ ایران کو ہتھیار خریدنے کی اجازت نہیں دے گا۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ''ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے''۔

پومپیو نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل سے کہیں گے کہ وہ ہتھیاروں کی خریداری پر عائد پابندی کی مدت میں توسیع کر دے۔ بصورت دیگر، ہم کسی اور کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ امریکہ صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ہمارے سامنے تمام امکانات موجود ہیں۔

امریکہ سن 2018ء میں ایران ایٹمی معاہدے سے نکل گیا تھا۔ مغربی ملکوں کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے میں طئے پایا تھا کہ اگر ایران اٹیمی اسلحہ بنانے کی کوشش ترک کر دے تو اس پر عائد پابندیوں کو نرم کر دیا جائے گا۔ اسی معاہدے کے تحت ایران پر اسلحہ خریدنے کی اقوام متحدہ کی پابندی کی مدت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔

امریکہ نے اس پابندی کی مدت میں توسیع کا مسودہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ تمام ممالک اس معاہدے میں شامل ہیں۔ اس کی تصدیق ایک اعلیٰ امریکی اہل کار نے کی ہے۔

تاہم، اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے بقیہ گیارہ اراکین کو یہ مسودہ نہیں دیا گیا۔ ان میں چین اور روس بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں ممالک ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک ایران کو ہتھیار فروخت کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے کی ناکامی کے متعدد اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق ہم سب سے بھی ہے، کیوں کہ چین، روس اور دیگر ممالک اپنے روایتی ہتھیار ایران کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے تین یورپی شراکت داروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کوئی قدم اٹھائیں''۔

برطانیہ فرانس اور جرمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ملک ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ان کے پاس صلاحیت ہے کہ یہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کو جاری رکھوا سکتے ہیں ، جن میں روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG