رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹبلشمنٹ، گھوڑے اور خچر


پاکستان میں یہ رائے عام ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی منشا کے مطابق قربت بخشنے اور استعمال کرنے کا فن اسٹبلشمنٹ کو بہت خوب آتا ہے۔

ناقدین کے مطابق ابھی کل ہی کی بات ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے من پسند سیاست دان تھے۔ اب وہی نواز شریف ’خلائی مخلوق‘ کی طرف سے حکومت اور الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی پر مہم چلاتے رہے لیکن ہوا وہی جس کے بارے میں سب پیش گوئی کر چکے تھے۔

ابھی عمران خان صاحب کی حکومت کو بنے دو مہینے بھی نہیں ہوئے کہ رکن پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل ’سما‘ کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی جماعت کے معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کو "او کے" کر دیا ہے۔

رانا مشہود نے اپنے انٹرویو میں یہ دعوٰی کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی یقین ہو گیا ہے کہ ان کے چنیدہ لوگ گھوڑے نہیں خچر ہیں‘‘ اور ’’جلد پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بن سکتی ہے‘‘۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے تو رانا صاحب کے اس بیان پر رد عمل میں تھوڑی تاخیر ہوئی، البتہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنا رد عمل دے دیا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم غفور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’رانا مشہود کا بیان بے بنیاد اور افسوسناک ہے۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں‘‘۔

آئی ایس پی آر کے ٹوئیٹ کے بعد رانا صاحب نے کہا کہ ان کے انٹرویو کو ٹوسٹ کیا گیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے رانا صاحب نے کہا کہ وہ ہمیشہ اداروں کی عزت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا ’’مؤقف کلیئر ہے کہ انہوں نے کبھی چور دروازے نہیں ڈھونڈے‘‘۔

بقول اُن کے، "مجھے دلی دکھ ہے کہ میرے انٹرویو کو ٹوئسٹ کیا گیا۔ نہ ہم نے ڈیل کی ہے نہ کبھی کریں گے۔ اس بات پر قائم ہوں کہ خچر ہیں وہ جن کو گھوڑا سمجھا گیا۔ میں جمہوریت پر یقین رکھنے والا آدمی ہوں۔ میں نے آرمی کی بات نہیں کی۔ فوج سب کی ہے میں اس بحث میں نہیں جاتا"۔

رانا صاحب کے اس بیان نے سیاسی جماعتوں میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے رانا مشہود کے بیان کو نون لیگ کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ قرار دیا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اس بیان کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔

اُن کے الفاظ میں"نون لیگ نے 20 سال میں جو عوام کے ساتھ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ شہباز شریف نے تمام اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ رانا مشہود کو دن میں خواب نظر آ رہے ہیں"۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے رانا صاحب کے بیان پر کہا کہ ان کی جماعت ’’کسی صورت بھی اپنی فوج کو کمزور نہیں ہونے دی گی‘‘، اور یہ کہ ’’رانا مشہود کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ "اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے لگتا ہے کہ شاید موجودہ جمہوریت غلط اور کمزور ہے۔ اس طرح کی باتوں سے جمہوریت اور پاکستان دونوں کو نقصان ہو گا۔"

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، حمزہ شہباز نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے رانا مشہود کے بیان کو ’’ایک پھلجھڑی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اس طرح کی باتیں ہوتی رہیتی ہیں، جن کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔

اُن کے بقول، "بعض دفعہ پتا چلتا ہے کہ بم پھٹ گیا ہے اور قریب جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ بم نہیں پھلجھڑی تھی۔ تو یہ بیان بھی پھلجھڑی ہے"۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے رانا مشہود کے بیان پر ردعمل سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نے رانا صاحب کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ماضی میں بھی ن لیگ نے فوج کے بارے میں متنازعہ بیانات دینے پر اپنے دو رہنماؤں مشاہد اللہ خان اور پرویز رشید کو ان کے عہدوں سے ہٹایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG