رسائی کے لنکس

غیر ذمے دارانہ بیانات کے باعث اسٹاک مارکیٹ کریش کر رہی ہے: حزب اختلاف


وزیر اعظم عمران خان کے سینئر صحافیوں سے انٹرویو کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان ازخود حکومت چھوڑ کر بھاگنا چاہتے ہیں‘‘۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کے ایسے بیانات کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور روزانہ اسٹاک مارکیٹ کریش کر رہی ہے‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان کے قبل از وقت انتخابات اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کا میڈیا سے پتہ چلنے کے حوالے سے بیانات پر اپوزیشن نے بھرپور تنقید کی ہے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعظم کو علم ہی نہیں کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے‘‘۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ناسمجھ وزیر اعظم سے ملک نہیں سنبھالا جا رہا۔ الیکشن میں لائی گئی کٹھ پتلیوں سے کام نہیں چلنا۔ یہ حکومت ملک نہیں سنبھال سکتی اور حالات بہت سنگین ہیں‘‘۔

آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ’’یہ ناتجربہ کار حکومت ہے جسے سیاسی سمجھ بوجھ نہیں۔ ون یونٹ کے خلاف ہم نے جدوجہد کی تھی اور موقع ملا تو آئین میں ترمیم کی۔ اب یہ حکومت اٹھارویں ترمیم سے متعلق کچھ شقوں کا بہانہ بنا کر آئین کو منسوخ کرنا چاہتی ہے۔ ہم حکومت کی اس کوشش کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ تاہم، موجودہ حکومت نہیں چل سکے گی اور اگر اسے خطرہ ہوا، تو اسے ہم نہیں بلکہ وہی قوتیں سپورٹ کریں گی جو لے کر آئی ہیں‘‘۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ’’اپوزیشن آخری حد تک کوشش کرے گی کہ وزیر اعظم ملک کو سیاسی عدم استحکام کی جانب نہ لے کر جائیں۔ اگر انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی تو یہ صریحاً ملک دشمنی ہوگی‘‘۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’’جس طرح حکومت ہو رہی ہے اس طرح عمران خان چھ ماہ بعد خود ہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ پاکستان 3 یا 6 ماہ بعد دوبارہ الیکشن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے، اپوزیشن حکومت کو وقت دے رہی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ملک ایسے شخص کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا جس کی ذہنی حالت ٹھیک نہ ہو۔ وزیر اعظم کی ذہنی حالت ایسی ہے کہ وہ کسی بھی وقت مڈ ٹرم الیکشن کروانے کا کہہ سکتا ہے‘‘۔

اُن کے بقول ’’عمران خان صاحب کو نہ حکومت چلانے کا پتہ ہے نہ وہ ان معاملات سے واقف ہیں۔ وہ کبھی بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسمبلیاں تحلیل کر رہا ہوں‘‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے کہا کہ ’’انوکھا لاڈلہ قوم کی قسمت سے کھیل رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھی، وزیر اعظم لاعلم تھے۔ یہ کیسا تماشا ہے؟‘‘

اُن کے الفاظ میں، ’’مسخرا پن سے ملک نہیں چلتے۔ عمران خان قوم سے کیے وعدے پورے کریں۔ لیکن گملے میں آگائے گئے سیاستدان ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتے‘‘۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’’اپوزیشن کو حکومت گرانے کے لیے اقدامات کرنے ضرورت نہیں۔ عمران خان کی ٹیم اور ان کی کارکردگی حکومت گرانے کے لیے کافی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’قبل از وقت انتخابات کے بیان کے بعد عمران خان اپنی کرسی پر نہ بیٹھیں۔ جس وزیر اعظم کو اپنی حکومت پر اعتماد نہیں، وہ ایک منٹ بھی اپنی کرسی پر نہ بیٹھے‘‘۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہباز شریف این آر او مانگنے والے کا نام بتانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ بقول اُن کے، ’’جیل جانے والوں اور 150 سے زیادہ پیشیاں بھگتنے والوں کو این آر او کی ضرورت نہیں‘‘۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان نے ’’علیمہ خانم کو این آر او دیا۔ علیمہ خانم کی منی لانڈرنگ کے پیچھے عمران خان ہے۔‘‘

اپوزیشن کے بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو کوئی موقع دینے کے حق میں نہیں؛ اور وہ ہر بیان پر حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دے رہے ہیں۔ تاہم، وزیر اعظم عمران خان کے وزرا ان بیانات کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG