رسائی کے لنکس

امریکہ میں احتجاج: ٹرمپ کا متاثرہ شہروں میں فوج تعینات کرنے کا عندیہ


صدر ٹرمپ نے احتجاج کے دوران لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کو دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے مختلف شہروں میں جاری پرتشدد احتجاج روکنے کے لیے متاثرہ شہروں میں امریکی فوج تعینات کریں گے۔

ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں موت کے بعد نیویارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی سمیت درجنوں امریکی شہروں میں پرتشدد احتجاج جاری ہے جس کے دوران حکام کو بدترین بدامنی کا سامنا ہے۔

رات کے اوقات میں احتجاج میں شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے 40 شہروں میں رات کا کرفیو نافذ ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فسادات، لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مسلح سپاہیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کر رہے ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن میں اتوار کی شب ہونے والی بدامنی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور پرتشدد مظاہروں سے متاثرہ ریاستوں کے گورنرز سے کہا کہ وہ سڑکوں پر قانون کی پامالی کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شہری انتظامیہ اور ریاستوں کے گورنرز اپنے شہریوں کی زندگی اور املاک کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات نہیں کر سکتے تو وہ مسئلے کے حل کے لیے امریکی فوج تعینات کریں گے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف نیویارک اور لاس اینجلس میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف نیویارک اور لاس اینجلس میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پرتشدد احتجاج کے دوران لوٹ مار کی وارداتوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'دہشت گردی کی کارروائیاں' قرار دیا۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے ممکنہ ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی فوج کو امریکی عوام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ پرامن مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کرا رہے ہیں۔

دوسری جانب پیر کو امریکہ کے بیشتر شہروں میں نسبتاً پرامن احتجاج ہوا۔ البتہ نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور لاس اینجلس میں لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ملٹری پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

مظاہرین کے منتشر ہونے پر صدر ٹرمپ نے سینٹ جانز چرچ کا دورہ کیا جو احتجاج کے دوران متاثر ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ہاتھ میں بائبل تھام کر چرچ کے احاطے میں تصاویر بنوائیں اور کہا کہ ہم عظیم قوم ہیں۔

یاد رہے کہ 25 مئی کو امریکی شہر منیاپولس میں ایک پولیس اہلکار نے 46 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو گرفتاری کے دوران زمین پر لٹا کر کئی منٹ تک اس کی گردن گٹھنے سے دبائے رکھی تھی۔ فلائیڈ بعد ازاں پولیس کی حراست میں چل بسا تھا اور رپورٹس کے مطابق اس کی موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔

واقعے میں ملوث پولیس اہلکار ڈیرک چاون کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے اور اس پر تیسرے درجے کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چاون کو آٹھ جون کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG