رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو برطرف کر دیا


جان بولٹن۔ فائل فوٹو

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جان بولٹن سے متعدد معاملات پر اختلاف کے باعث ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے کل رات جان بولٹن کو بتا دیا تھا کہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کی خدمات درکار نہیں رہیں۔ مجھے اور میری انتظامیہ کے دیگر لوگوں کو ان کی بہت سی تجاویز سے شدید اختلاف رہا ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے جان بولٹن سے کل رات استعفیٰ طلب کیا تھا اور انہوں نے آج صبح اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے جان بولٹن کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ ان کے متبادل کا اعلان آئندہ ہفتے کر دیں گے۔

اس کے جواب میں جان بولٹن نے ٹوئٹ کیا کہ انہوں نے پیر کی رات کو مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی اور صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس پر ہم کل بات کریں گے۔

امریکہ کے معروف تھنک ٹینک ’ہیری ٹیج فاؤنڈیشن‘ کے مارگریٹ سینٹر فار فریڈم کے ڈائریکٹر نائل گارڈینر نے وائس امریکہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن نے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دی ہیں اور امریکہ کی دنیا بھر میں ایک سوپر پاور کی حیثیت کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اہم پالیسی سازی میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جان بولٹن نے امریکہ کو درپیش خطرات کے بارے میں سخت رویہ اپنایا اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم رہے کہ امریکہ کو ہر صورت اپنے دشمنوں کے ساتھ مضبوطی سے نمٹنا چاہئیے۔

نائل گارڈینر کا کہنا تھا کہ سابق صدر ریگن کی طرح صدر ٹرمپ بھی اپنی ٹیم میں ردو بدل کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اس سارے عمل میں وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تسلسل درست سمت میں برقرار رہے۔

جان بولٹن اس سے پہلے فاکس نیوز سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے فاکس نیوز کے اینکر برائن کلمیڈ کو بھیجے گئے ایک ٹیکسٹ میں صدر ٹرمپ کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا، ’’سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے خود ہی استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک اور ساتھی کے نام پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے استعفے کی وجوہات بعد میں کسی وقت بتائیں گے۔

سینٹر فار نیشنل انٹرسٹ کے سینئر ڈائریکٹر ہیری کازیانیز کا کہنا ہے کہ جان بولٹن کو عہدے سے ہٹانا ایک دیرینہ ضرورت تھی اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اچھا اقدام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عالمی معاملات پر صدر ٹرمپ اور بولٹن کے خیالات میں ہم آہنگی نہیں تھی جن میں مشرق وسطیٰ اور شمالی کوریا کے معاملات کے علاوہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے نمٹنا بھی شامل ہے۔ یوں بولٹن کو عہدے سے ہٹانا ہی صدر ٹرمپ کیلئے واحد راستہ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب صدر ٹرمپ کسی ایسے شخص کو اس عہدے پر فائز کر سکتے ہیں جو دوسرے ممالک میں حکومت گرانے کی حکمت عملی کا مخالف ہو۔ ہیری کازیانیز کے مطابق جان بولٹن کے جانشین کے طور پر شمالی کوریا کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن بیگن اور ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگر ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ جان بولٹن اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے تھے اور اس وجہ سے انتظامیہ میں بہت سے لوگ ان سے نالاں تھے۔

ذرائع کے مطابق جان بولٹن نے حالیہ دنوں میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء اور طالبان کے ساتھ امن سمجھوتے کے معاملے پر وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے شدید اختلاف کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بولٹن طالبان سے امن سمجھوتے کے شدید مخالف تھے۔

آج منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں وزیر خزانہ سٹیو نوچن کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تصدیق کی کہ بہت سے معاملات پر ان کے جان بولٹن سے شدید اختلافات رہے۔ تاہم وہ خارجہ امور کے نگران کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے، جب کہ جان بولٹن سلامتی کے معاملات دیکھتے تھے۔

جان بولٹن ٹرمپ انتظامیہ کے مستعفی ہونے والے چوتھے قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ اُن سے پہلے مائیکل فلن اور ایچ آر مکاسٹر بھی قومی سلامتی کے مشیر کے منصب سے استعفیٰ دے چکے ہیں جب کہ کیتھ کیلوگ نے قائم مقام قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے استعفیٰ دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG