رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اقدامات کے باوجود ایران سے اب بھی خطرہ ہے: بولٹن


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو جارحیت کے اقدامات سے روکا ہے، لیکن متنبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ کے اس ملک سے اب بھی خطرات لاحق ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکورٹی کے مشیر جان بولٹن نے لندن میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں نہیں سمجھتا خطرہ ٹلا ہے۔ لیکن، میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ایک مشروط دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں کہ ہماری جانب سے دیگر اقدامات کے علاوہ فوری جوابی کارروائی اور تعیناتی کے اقدام ایران کو باز رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں‘‘۔

ٹرمپ نے گذشتہ جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ 1500مزید فوج مشرق وسطیٰ روانہ کریں گے، جس سے چند ہی دن بعد بولٹن نے اعلان کیا کہ ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ اور بمبار طیارے خلیج فارس کی جانب بھیج دیے گئے ہیں۔ بولٹن نے کہا کہ یہ اقدام ’’خطے میں امریکی افواج کو ایران سے درپیش خطرات کے واضح اشاروں‘‘ کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
بولٹن ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے حامی ہیں۔ انھوں نے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ وہ ’’ایران میں حکومت کی تبدیلی کی پالیسی‘‘ کے حامی نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا جب ان سے پوچھا گیا آیا اس معاملے پر وہ ٹرمپ سے اتفاق نہیں کرتے۔

ذرائع ابلاغ کی حالیہ اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے معاملے پر ٹرمپ بولٹن سے ناخوش ہیں۔ اپنے حالیہ دورہ جاپان کے دوران ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت کی تبدیلی پر زور نہیں دے رہے ہیں۔ اس سے قبل اسی ہفتے، ٹرمپ نے ’نیو یارک ٹائمز‘ سے مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بولٹن امریکی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے تو ’’اب تک ہم چار لڑائیوں میں شامل ہو چکے ہوتے‘‘ ۔
ٹرمپ نے جمعرات کے دن بولٹن سے مزید دوری اختیار کرتے ہوئے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ جوہری سمجھوتے پر وہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے تعزیرات عائد کرنے کے نتیجے میں ’’کمزور ملک‘‘ بننے کے بعد ایران معاہدہ کرنا چاہے گا۔

لیکن، ایران کے رہبر اعلیٰ، آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ اپنے ملک کی فوجی صلاحیتوں سےمتعلق معاملات پر وہ مذاکرات نہیں کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شرعی قانون کے پیش نظر نہ کہ امریکی تعزیرات کے نتیجے میں ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرنا چاہتا۔
اس ماہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید تیزی آئی ہے۔ کسی ثبوت کے بغیر، بدھ کے روز بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ’’شاید یقینی طور پر ایران کی جانب سے بچھائی گئی ‘‘بحری بارودی سرنگوں کے نتیجے میں خلیج میں چار آئل ٹینکروں میں حالیہ دھماکے ہوئے۔

ٹرمپ کے متعدد ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ 2015ء کے جوہری معاہدے سے ان کی انتظامیہ کے الگ ہونے، ایران کی فوج کو دہشت گرد گروہ قرار دینے اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف دوبارہ سخت تعزیرات عائد کرنے کے نتیجےمیں ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG