رسائی کے لنکس

 وزیر اعظم عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس


فائل

صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی میں کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جو دیگر ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ملک میں ایسی محفوظ گاہیں موجود نہیں ہیں

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں جمعہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا۔

اس اجلاس میں پاکستان کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم عباسی کی امریکہ سے واپسی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔

وزیر اعظم کےدفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، کمیٹی کو نیویارک میں اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کی دینا کے اہم ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں علاقائی اور عالمی سلامتی سے متعلق پاکستان کے نقطہٴ نظر سے آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی کو وزیر خارجہ کی طرف سے علاقائی ممالک بشمول چین، ایران اور ترکی کے دوروں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستانی حکومت کی ہدایت وزیر خارجہ نے خطے کے دوست ممالک کے دورے کرکے اُنھیں بھی پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی میں کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جو دیگر ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ملک میں ایسی محفوظ گاہیں موجود نہیں ہیں۔

امریکی انتظامیہ کی خطے سے متلعق پالیسی کے اعلان کے بعد ناصرف اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات پر اثر پڑا، بلکہ پاکستان نے امریکہ اور دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے ملک کے اعلیٰ سفارت کاروں کی کانفرنس بھی منعقد کی، جس میں پاکستان کی خارجہ پالسی کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سفارشات بھی مرتب کیں جنہیں حتمی منظوری کے لیے قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا جانا تھا۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چند ماہ سے قدرے سرد مہری کا شکار ہیں۔ تاہم، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ باہمی رابطوں کو برقرار رکھنا اسلام آباد اور واشنگٹن کے لیے یکساں طور اہم ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ظفر جسپال نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ،"یہ بہت اہم ہے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اور ہمارے لیے بھی انٹرنینشل پالیٹکس میں جو تبدیلی آئی ہے اس میں ہم چین کی قریب ہو رہے۔ دوسری طرف، ہم امریکہ کے چوتھی بار اتحادی نہیں بننا چاہتے مگر اس کے ساتھ ہم امریکہ کے ساتھ اپنے بہت اچھے ورکنگ تعلقات رکھنے چاہیتے ہیں اور اس تناظر میں قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ اہم ہے۔"

تاہم، ظفر جسپال نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ایک دوسرے کے بارے تحفظات کو دور کرنا ایک چیلنج ہے۔

بقول اُن کے، "ایک طرف ایک سپر پاور ہے ایک طرف علاقائی ملک ہے اور جو (پاکستان) ساتھ دہائیوں کے تک امریکہ کے قریب رہا ہے۔ لیکن، اب وہ اس پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اور یہی ایک فرق ہے۔"

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات کی تھی جو گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور خطے سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا، جس میں دونوں جانب سے باہمی رابطوں کو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر رواں ماہ نیویارک میں پاکستانی اور امریکی قائدین کے درمیان ہونے والی ملاقات مثبت رہیں اور ان سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں سے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور فاصلوں کو کم کرنے میں مدد ملی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بہت جلد دونوں جانب سے ایک دوسرے ممالک کے دورے بھی متوقع ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار رکھنا ضروری ہے۔ اگر افغانستان اور خطے سے متعلق پاکستان اور امریکہ کے کچھ تحفظات ہیں، تو انہیں بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کے موجود تعلقات کے معاملے پر بات ہوئی اور کمیٹی نے افغانوں کے قیادت میں امن عمل کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG