رسائی کے لنکس

'شاہد خاقان اور نائب صدر پینس کی ملاقات مثبت رہی'


ترجمان وزارت خارجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا

پاکستان کی وزارت خارجہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے درمیان ہونے والی ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر دونوں جانب سے باہمی رابطوں کو جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ بھی کیا گیا۔

جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان، نفیس ذکریا نے کہا کہ اس موقع پر امریکہ کے نائب صدر نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلق کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے باہمی شراکت داری کی اہمیت کا بھی حوالہ دیا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عباسی اور نائب صدر پینس کے درمیان یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کے باہمی رابطوں کو پائیدار بنیادوں پر استوار رکھنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ رابطوں کو منقطع کرنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔ رابطوں کو بحال رکھنا ہر ایک کے مفاد میں ہے اگر ہم یہ رابطے بحال رکھیں گے تو ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں گے اور باہمی اعتماد کو کم کریں گے اور اگر باہمی رابطے ہی نا ہوں تو بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے رابطوں کو بحال رکھنا امریکہ کے بھی مفاد میں ہے اور پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔"

بعض مبصرین نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رابطے ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکہ دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے اور سرحد کے آرپار شدت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق اگر اسلام آباد اور کابل کے تحفظات ہیں تو، ان کے بقول، انہیں بہتر بارڈر میجنمٹنٹ اور باہمی تعاون سے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 21 اگست کو اپنے پالیسی خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں۔ اسلام آباد نے متعدد بار اس موقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ پاکستان نے ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ہے اور ملک میں ایسے ٹھکانے موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG