رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور: وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے کے گھر ڈکیتی


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے شیر شاہ کے گھر ڈاکوؤں نے ڈکیتی کی واردات کے دوران طلائی زیورات اور اسلحہ چوری کر لیا۔ البتہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور ذوالفقار حمید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے بھانجے شیر شاہ کے گھر کا ایک دروازہ یا ایک کھڑکی کھلی رہ گئی تھی۔ جس کی وجہ سے ڈاکو گھر میں داخل ہوئے۔ ذوالفقار حمید نے بتایا کہ واردات کا مقدمہ تھانہ ریس کورس میں درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تین مسلح ڈاکو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب چار بجے کے قریب اپر مال روڈ کے قریب واقع گھر میں داخل ہوئے۔ اور اسلحے کے زور پر ڈاکو آٹھ طلائی چوڑیاں اور ایک پرانی پستول لے گئے۔

لاہور کے پولیس چیف ذوالفقار حمید نے مزید بتایا کہ "ہمیں واردات سے متعلق کچھ اشارے ملے ہیں۔ انگلیوں کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں۔ ڈکیتی کی واردات میں مالی کے بیٹے پر شبہ ہے۔ جلد ملزمان کو گرفتار کرلیں گے۔"

وزیراعظم کے بھانجے شیر شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واردات کے دوران کوئی بڑانقصان نہیں ہوا۔ ڈاکو تھوڑا زیور اور دادا کے زمانے کی پرانی پستول لے گئے ہیں۔

شیر شاہ نے بتایا کہ واردات کے وقت وہ اسلام آباد میں تھے۔ گھر میں صرف اُن کی اہلیہ اور بیٹی موجود تھیں۔ واقعہ کے بعد وہ بھی اسلام آباد سے لاہور اپنے گھر پہنچے ہیں۔

شیر شاہ کے مطابق ڈکیتی کرنے والوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان لگتی ہیں جو پرانی موٹر سائیکل پر آئے تھے۔

شیر شاہ کے مطابق اُن کے گھر پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی گارڈ موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکو جلدی میں لگتے تھے۔

شیر شاہ نے بتایا کہ "لگتا ہے کہ چوروں کو پتا تھا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں، اسی لیے انہیں چوری کرنا آسان لگا۔ میری دادی کی طلائی چوڑیاں اور دادا کا پرانا پستول الماری سے لے گئے ہیں۔"

شیر شاہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیٹے ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے کنسلٹنٹ ہیں۔

شیر شاہ کی رہائش سے چند فرلانگ کے فاصلے پر لاہور کے علاقے زمان پارک میں وزیر اعظم عمران خان کا آبائی گھر ہے۔

اِس سے قبل بھی وزیراعظم کے ایک اور بھانجے حسان خان نیازی شہ شرخیوں میں رہ چکے ہیں۔ حسان نیازی پر چند روز قبل وکلا کے جتھے کے ساتھ مل کر لاہور کے کارڈیالوجی اسپتال پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

لیکن پولیس حسان نیازی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔ حسان نیازی نے پولیس کی گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے رجوع کر کے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG