رسائی کے لنکس

logo-print

علیمہ خان کی دبئی جائیدادوں اور ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانےکی تفصیلات طلب


سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی دبئی کی جائیدادوں اور ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانےکی تفصیلات طلب کر لی ہیں، جبکہ ایف آئی اے نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس کے مطابق مزید 220 پاکستانیوں کی دبئی میں 656 جائیدادوں کا پتہ چلا لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمعہ کو پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر نے کمیٹی بنا کر 20 لوگوں کا جائزہ لیا جن میں سے چار لوگوں نے دبئی میں جائیداد تسلیم کی ہے، دو لوگ عدالتی حکم کے بعد ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے جبکہ 14 لوگوں نے جواب دیا لیکن ان کے جواب میں تضاد تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سینیٹر وقار احمد کی 14 جائیدادیں دبئی میں ہیں۔ لیکن، انہوں نے ٹیکس 6 لاکھ روپے دیا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے سے قبل جائیداد کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ کیا علیمہ خان کی دبئی میں جائیداد ہے؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ علیمہ خان کی دبئی میں 6 جائیدادیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت فائدہ لینے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن جائیدادوں کی تفصیل مانگی وہ نہیں ملی، کس چیز کا صیغہ راز؟ کیا یہ آپ کی جائیداد ہے، کیا علیمہ خان نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا؟ عدالت کے پاس تفصیلات طلب کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت کو فوری معلومات فراہم کریں۔ ہمیں معلومات سربمہر لفافے میں ڈال کر دے دیں۔

عدالت نے ایف بی آر سے علیمہ خان کی دبئی میں جائیدادوں اور ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ کی تفصیلات طلب کر لیں، جبکہ سینیٹر وقار احمد کو ہفتے کے روز عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ بھی جمع کرائی ہے جس میں مزید 220 پاکستانیوں کی دبئی میں 656 جائیدادوں کا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دبئی میں جائیدادیں بنانے والے پاکستانیوں کی تعداد اب ایک ہزار 115 تک پہنچ گئی ہے، ان پاکستانیوں کی دبئی میں 2 ہزار 29 جائیدادیں ہیں جن میں سے 417 پاکستانیوں نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت دبئی میں جائیدادیں ظاہر کیں۔

رپورٹ کے مطابق، سندھ کے 267 افراد نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت دبئی میں جائیدادیں ظاہر کیں، پنجاب کے 117، کے پی کے 4، اسلام آباد کے 2 افراد نے دبئی میں جائیدادیں ظاہر کیں، جبکہ بلوچستان کے کسی شہری نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے انکوائری افسر کے سامنے 351 پاکستانیوں نے جائیدادیں ظاہر کیں اور دبئی میں جائیدادیں رکھنے والے 63 پاکستانیوں کی شناخت نہ ہوسکی۔

غیر شناخت پاکستانیوں میں 9 کا تعلق پنجاب، 43 کا سندھ اور 11 کا اسلام آباد سے ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے اور اب تک اس کیس میں بیرون ممالک سینکڑوں پاکستانیوں کی جائیدادیں سامنے آئی ہیں۔ یہ پاکستانی ملک کے اندر ٹیکس ادا نہیں کرتے اور اربوں روپے مالیت کی پراپرٹیز بیرون ملک خرید رکھی ہیں، ایف آئی اے اس حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ رابطے بھی کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG