رسائی کے لنکس

جماعت احمدیہ سے وابستہ پروفیسر پشاور میں قتل


پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک، فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کالج کے ایک پروفیسر کو نامعلوم افراد نے سوموار کی سہ پہر اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ گھر واپس جا رہے تھے۔

ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کی عمر 56 سال تھی اور وہ گورنمنٹ سائنس سپیرئیر کالج پشاور میں زوالوجی کے پروفیسر تھے۔ وہ زوالوجی میں پی ایچ ڈی ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے تھے۔

پشاور کے تھانہ ماڑی پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے کالج کے قریب وزیر باغ روڈ پر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو پانچ گولیاں مار کر موقع پر ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر دیا گیا ہے اور مزید تفتیش کی جاری ہے۔ اعلی پولیس عہدیداروں نے اس واقعہ پر کسی قسم کے بیان یا موقف دینے سے گریز کیا۔

رواں سال 29 جولائی سے اب تک صرف پشاور شہر میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افرد کے قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

29 جولائی کو پشاور کی ایک عدالت میں توہین مذہب کے ایک مقدمے میں زیر حراست مبینہ ملزم کو ایک نواجوان نے پستول سے فائر کر کے قتل کر دیا تھا۔ جب کہ اگست کے دوسرے یفتے میں معراج احمد نامی شخص کو اس وقت نامعلوم افراد نے گولیاں مارکر ہلاک کر دیا جب وہ ڈبگری میں اپنا میڈیکل سٹور بند کر کے گھر جا رہے تھے۔

پشاور کی ایک عدالت میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک امریکی نیشنل کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ پر لوگ نعرہ بازی کر رہے ہیں۔
پشاور کی ایک عدالت میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک امریکی نیشنل کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ پر لوگ نعرہ بازی کر رہے ہیں۔

معراج احمد کے قتل میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ھے۔

پشاور میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف تشدد بالخصوص گھات لگا کر قتل کی وارداترں میں اضافے کے باعث درجنوں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر پنجاب کے چناب نگر اور دیگر شہروں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر پروفیسر نعیم الدین احمد خٹک پشتو اور اردو زبان کے مشہور شاعر اور دانشور فضل دین خٹک کے بیٹے تھے۔ جب کہ وہ پشتون تحفظ تحریک کے بانی رہنما اور پاکستان ورکرز پارٹی کے صوبائی صدر شہاب خٹک کے بھائی تھے۔

دریں اثنا جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو مذہبی منافرت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

چناب نگر ربوہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سلیم الدین نے کہا کہ پاکستان میں بالعموم اور پشاور میں بالخصوص عقیدے کے اختلاف کی بنا پر احمدیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی زندگیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے احمدیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا یے کہ حکومت احمدیوں کہ جان و مال کے تحفظ سے عمداً بے توجہی روا رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم میں شدت آ گئی ہے اور نفرت انگیز مھم چلانے والوں سے حکومت کی مسلسل چشم پوشی سے شر پسند عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملی ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ احمدیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے فوری طور پر موثر اقدامات کئے جائے اور انہیں قاتلوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG