رسائی کے لنکس

صوبے مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے سے گریزاں کیوں ہیں؟


فائل فوٹو

سندھ میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کے بہت سے مسائل ہیں البتہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

کراچی میں صحافی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی بہت سے مسائل ہیں۔ صوبائی حکومت مسائل کا حل نکال رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر یقین رکھتی ہے۔ سندھ میں قائم بلدیاتی نظام نے قانونی مدت پوری کرکے تاریخ رقم کی اور صوبائی دارالحکومت کراچی میں ان کی مخالف جماعت کی بلدیاتی حکومت کو بھی برداشت کیا۔

بلاول بھٹو کے اس بیان کو اس پس منظر میں جاننا ضروری ہے کہ اس سے ایک روز قبل ہی الیکشن کمیشن میں سندھ حکومت نے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ فی الحال صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا سکتی۔

اس کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کمیشن کے سامنے صوبے کی نمائندگی کرنے والے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ حکومت کو مردم شماری کے حتمی نتائج پر تحفظات ہیں جس پر آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت اپیل دائر کی گئی ہے۔ اس اپیل پر فیصلے کے علاوہ حلقہ بندیوں، متعلقہ قوانین میں ترامیم وغیرہ کے لیے چھ ماہ کا وقت بھی درکار ہے۔

سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کا اس سے قبل مؤقف تھا کہ آبادی کے عبوری اعداد و شمار پر حلقہ بندیاں نہیں کی جاسکتیں۔ لیکن اب جب آبادی کے حتمی اعداد و شمار بھی جاری کیے جا چکے ہیں تو اس پر تحفظات کا اظہار کر کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو روکا جا رہا ہے۔

کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت کے اس مؤقف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اور اس بارے میں کوئی ٹائم فریم دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔

کسی بھی صوبے اور انتظامی یونٹ میں بلدیاتی حکومتیں موجود نہیں

البتہ یہ معاملہ صرف صوبہ سندھ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، جہاں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے وہاں پر بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔

صوبے میں نئے بلدیاتی قانون کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کو مدت کی تکمیل سے قبل ہی تحلیل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس تحلیل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ مقامی حکومت کو کام کرنے اور مدت پوری کرنے دیا جائے۔

اس فیصلے پر پنجاب حکومت نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے اور مقامی حکومتوں کو اب تک بحال نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی نظام پر فخر کرتی آئی ہے اور اسے ملک میں سب سے زیادہ با اختیار مقامی حکومت قرار دیتی آئی ہے وہاں پر بھی اس وقت بلدیاتی حکومتیں موجود نہیں ہیں۔

صوبے میں 27 اگست 2019 کو مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 روز گزرنے کے باوجود بھی اب تک صوبائی حکومت وہاں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا سکی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اگست کے مہینے میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے الیکشن کمیشن کو درخواست کی کہ صوبے میں امن و امان اور کرونا کی صورتِ حال کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات مارچ 2022 میں کرائے جائیں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ہے۔

ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہے۔

بلوچستان میں بھی جنوری 2019 میں مقامی حکومت کی مدت ختم ہوئی تھی جس کے بعد سے وہاں بھی ابھی کوئی مقامی حکومت موجود نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق 2017 کی مردم شماری کے نتائج جاری ہونے کے بعد حد بندیاں، نقشے اور دیگر کاموں کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور وفاق کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی فی الوقت مقامی حکومت کا کوئی وجود نہیں۔

پنجاب اور بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ سال کے شروع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی حتمی تیاریاں کر رہی ہیں جب کہ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق رواں سال امن و امان کے مسائل، افغانستان کی صورتِ حال اور بعض علاقوں میں موسمی حالات کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکے گا تاہم وہ بھی سال 2022 کے مارچ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے کوشاں ہے۔

آئین کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے میں مقامی حکومت کا نطام بنائیں گی اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی ذمہ داریاں بھی منتقل کریں گی۔ اور اس کا اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو گا جب کہ اس کے لیے انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے پاس ہو گی۔

البتہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کے بجائے صوبوں کے پاس اختیارات آجانے کے بعد سے اکثر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے اجتناب دیکھا گیا ہے۔

'اصل رکاوٹ طاقت رکھنے کی سوچ ہے'

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ کے بانی اور صدر احمد بلال محبوب کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے تاریخی طور پر ملک میں زیادہ تر اختیارات مرکز کے پاس رہے اور پھر انہیں صوبوں کو منتقل کرنے میں 60 سال سے زائد کا عرصہ لگا۔ البتہ اس کے بعد اب یہی اختیارات صوبوں سے مقامی سطح پر منتقل ہونے تھے، جو بدقستی سے اب تک نہیں ہوسکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں اصل رکاوٹ وہ سوچ ہے جو طاقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

ان کے بقول، صوبوں میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعتوں کو یہ خدشہ ہے کہ اگر یہ اختیارات منتقل کردیے گئے تو ان کی طاقت کم پڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان اختیارات کو آسانی سے نیچے منتقل کرنے کو تیار ہی نہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ تحریک انصاف جس کی ملک کے دو صوبوں میں مکمل اور ایک میں اتحادی حکومت قائم ہے، اس نے مقامی حکومتوں کے قیام پر اقتدار میں آنے سے قبل کافی زور دیا تھا۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت کسی ایک بھی صوبے میں بلدیاتی حکومت قائم کیوں نہیں ہے؟ پر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں وزیرِ اعظم عمران خان اب بھی اس بارے میں کافی پر عزم ہیں اور اس کے لیے وہ صوبائی حکومتوں کو وقتاً فوقتاً ہدایات بھی دیتے رہے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ کام صوبائی حکومت اور ان کے ماتحت بیورکریسی کو کرنا ہے جس میں ہر دفعہ نئے بہانے تراش کر اسے التواء میں رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترمیم کے بعد وہاں مقامی حکومتوں کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی طرح اپنے آئین میں مقامی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں حقیقی اختیارات دینے سے متعلق ترامیم کرکے اسے شامل کرنا چاہیے۔

'اختیارات و وسائل کی نیچے منتقلی سے اراکین اسمبلی کا اثر و رسوخ کم ہوجائے گا'

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد بھی اسے بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں کہ ملک میں اس وقت کسی بھی حصے میں مقامی حکومتیں موجود ہی نہیں۔

ان کے خیال میں اس میں برسرِ اقتدار جماعتیں ہی ذمہ دار ہیں جو اقتدار میں آنے سے قبل پُرفریب وعدے اور دعوے کرتی ہیں لیکن اس کے بعد ان وعدوں سے یو ٹرن لے لیتی ہیں۔ کیونکہ وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات اور انہیں اختیارات دینے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔

ان کے مطابق آئین پر عمل درآمد کی صورت میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ پھر ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کو نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو دینے پڑیں گے۔ جس سے ان کے اثر و رسوخ میں کمی آجائے گی اور پھر ان کی اہمیت کم ہوجائے گی جو یہ نہیں چاہتے۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ گذشتہ بار بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات سپریم کورٹ کی جانب سے سخت احکامات اور ڈیڈ لائنز دینے پر ہی کرائے گئے تھے۔ لیکن ان کے مطابق پھر بھی کسی صوبائی حکومت نے حقیقی اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے اور اختیارات منتخب نمائندوں کو دینے کے بجائے بیورو کریسی کے سپرد کردیے گئے۔

انہوں نے اس بات سے مکمل اتفاق کیا کہ مقامی حکومتوں کے قیام میں اصل رکاوٹ درحقیقت وہ مائنڈ سیٹ ہے جو طاقت کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔

ان کے خیال میں پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرایا گیا ڈیولوشن پلان کافی بہتر تھا لیکن ان کے جانے کے بعد 2009 میں الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے باوجود بھی ان کا انعقاد نہ کیا گیا کیوں کہ سابق صدر آصف زرداری نے اسے واپس لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اور پھر بالآخر 2015 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سخت ایکشن لینے پر ان کے مطابق نام نہاد انتخابات کرائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جب سپریم کورٹ نے اس پر چیف الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آخر صوبوں میں بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں ہو رہے تو چیف الیکشن کمشنر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس میں صوبائی حکومتیں سنجیدہ ہی نہیں۔

ملک میں کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشنز شیڈول کے مطابق ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات تو ہے لیکن کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات بہت محدود پیمانے پر ہوتے ہیں اور اس میں عوامی سطح پر اس قدر اختیارات بھی نہیں آتے۔ جس کی وجہ سے اس کے ثمرات بھی انتہائی محدود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG