رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کی تقدیر کیسے بدلے گی؟


ملک کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز، جہاں سے وفاق کو 55 فی صد ٹیکس ریونیو جب کہ صوبۂ سندھ کو 90 فی صد ٹیکس ریونیو حاصل ہوتا ہے، مسائل کا گڑھ نظر آتا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں، یکم ستمبر 2017 کی ایک خبر ہے جس میں اس وقت کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں طوفانی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کا نوٹس لیا تھا۔

شاہد خاقان عباسی نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عوام کی مشکلات کا ازالہ کریں۔

کراچی میں اس دوران پاکستانی فوج کو بھی طلب کر لیا گیا تھا، پاکستان نیوی اور رینجرز کے اہلکار بھی مختلف مقامات پر جمع پانی نکالنے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے تھے۔

منظر نامہ بدلا اور 12 اگست 2019 آ گیا جس روز پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ "میں نے کراچی سے تعلق رکھنے والے اپنے تمام اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ عید اور یومِ آزادی کی چھٹیاں اپنے حلقوں میں گزاریں اور عوام کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں۔"

وزیرِ اعظم نے مزید کہا تھا کہ "وفاقی حکومت اس عظیم شہر کے لوگوں کو درپیش مشکلات کے حل اور دہائیوں سے نظر انداز کیے جانے کے خاتمے کے لیے ایک پیکج تیار کر رہی ہے"۔

عمران خان کی اس ٹوئٹ کو آٹھ ہزار سے زائد شہریوں نے ری ٹوئٹ اور اس پر کمنٹس کیے تھے جب کہ 41 ہزار سے زائد لوگوں نے لائیک کیا تھا۔

اس بات کو کم و بیش ایک سال گزر چکا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو پیکج تو نہ مل سکا لیکن ایک بار پھر مون سون بارشوں نے شہر کا منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔

خاص طور پر اورنگی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلشن اقبال، گلستانِ جوہر، سہراب گوٹھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اتوار اور پیر کو ہونے والی بارشوں کے بعد سیلابی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔

سوشل میڈیا پر چند گھنٹوں میں ایسی سینکڑوں ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں شہر کے مختلف علاقے برساتی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شہریوں کی گاڑیاں پانی میں تیر رہی ہیں جب کہ نالوں سے ابلنے والا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔

ملک کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز، جہاں سے وفاق کو 55 فی صد ٹیکس ریونیو جب کہ صوبۂ سندھ کو 90 فی صد ٹیکس ریونیو حاصل ہوتا ہے، مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ ترقیاتی کاموں اور منصوبہ بندی کا فقدان اور سب سے بڑھ کر بلدیاتی اداروں کی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ادھر صوبۂ سندھ میں گزشتہ 12 برسوں سے برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اگر بات کی جائے تو اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے لے کر وزیرِ بلدیات ناصر شاہ اور وزیرِ تعلیم سعید غنی یہی معلومات دیتے آ رہے ہیں کہ شہر کی تمام سڑکوں سے پانی کی نکاسی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے وزرا کا مؤقف ہے کہ ان کے انتظامات میں کوئی کمی نہیں بلکہ بارشیں معمول سے کچھ زیادہ ہو گئی ہیں۔بقول ان کے، لاہور کے پارکس، سڑکیں اور انڈر پاسز بھی تالاب بنے ہوئے ہیں اور وہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ باتیں سوال گندم جواب چنا کے مصداق لگتی ہیں۔

اور آخر میں ذکر "بغیر اختیارات والے" میئر کراچی جناب وسیم اختر کا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ان کا بیان آیا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے تمام انڈر پاسز میں ٹریفک کی روانی بحال ہے۔ ان پر عملہ تعینات ہے تاکہ پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری نکاسی کا عمل شروع کر دیا جائے۔

میئر کراچی کے مطابق، کے ایم سی کے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ برسات کے موسم میں شہریوں کو کم سے کم تکالیف کا سامنا ہو۔

کئی لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کراچی جیسے میگا سٹی کے "بے اختیار" میئر کے بیان پر کیا ردعمل دیا جانا چاہیے۔ بقول میر تقی میر

مختار رونے ہنسنے میں تجھ کو اگر کریں
تو اختیار گریۂ بے اختیار کر

ان تمام اعلیٰ حکام کے وعدے اور دعوے ایک طرف لیکن جس طرح حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا اسی طرح کراچی کے بنیادی مسائل کو جھٹلانا بھی ممکن نہیں۔

ماہرین کہتے ہیں ، منصوبہ بندی کا فقدان، بلدیاتی اداروں کو کمزور رکھنا، اختیارات کی رسہ کشی، بلدیاتی اداروں میں سیاسی بھرتیاں اور پھر رہی سہی کسر مالی بدعنوانیوں نے پوری کر دی ہے۔

ایسے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ سے زائد کراچی کے مکین کہاں جائیں اور کس کی جانب دیکھیں؟

یہاں انتخابات لڑنے کے لیے تو سات بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین میدان میں اتر جاتے ہیں مگر شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے سب جماعتیں مل بیٹھ کر حکمتِ عملی بنانے کے لیے کوئی اقدامات کرتے نظر نہیں آتے۔

ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور سوشل میڈیا پر اپنا اپنا بیانیہ پیش کرنے والے سیاسی رہنما میدانِ عمل سے بالکل غائب ہیں۔ پھر نتیجہ یہی نکلنا ہے کہ ملک کی اقتصادی ٹرین کا انجن کہلانے والا کراچی پچھلے کئی برسوں سے 'اکنامک انٹیلی جنس یونٹ' کی رپورٹ میں دنیا کے 10 بد ترین شہروں میں شمار ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس فہرست میں شامل اکثر شہر ان ممالک کے ہیں جہاں جنگوں نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔

ماہرین سے شہر کی اس حالت کا حل ہوچھیں تو کہتے ہیں کہ سب کچھ ممکن ہے۔ مگر ضرورت ہے سیاسی قیادت کے فیصلوں کی اور پھر اس پر عمل درآمد کی۔ ان کے بقول، ہر قسم کے جماعتی، سیاسی، لسانی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف کراچی کی تعمیر اور ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا جس میں کوئی مصلحت آڑے نہیں آئے گی۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس شہر کو اس کے حق کے مطابق وسائل فراہم کیے جائیں، شہر میں کام لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ اجتماعی فائدے کے لیے کیے جائیں۔ جب تک حکومتیں حقیقت میں عوام کی خادم بننے کو تیار نہیں ہوتیں،خدشہ یہی ہے کہ کراچی کا نظام کہیں ایسے ہی نہ چلتا رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG