رسائی کے لنکس

اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی، تحریکِ انصاف کا جماعتِ اسلامی سے رابطہ


فائل

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر ختمِ نبوت سے متعلق حلف نامے کو چھیٹرا ہے اور قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی سے رابطہ کیا ہے تاہم جماعت کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں صلاح مشورے کے بعد کوئی جواب دیں گے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے جمعے کو لاہور میں واقع جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر 'منصورہ' میں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق سے ملاقات کی۔

ملاقات میں قومی احتساب بیورو (نیب)کے نئے چیئرمین کے تقرر اور قائدِ حزبِ اختلاف کی تبدیلی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ انتخابی اصلاحات میں حال ہی میں متعارف کرائی جانے والی ترامیم کا معاملہ بھی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل تھا۔

ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں کیونکہ ان کے بقول پاکستان میں اس وقت کوئی حقیقی اپوزیشن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر ختمِ نبوت سے متعلق حلف نامے کو چھیٹرا ہے اور قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم پر خود شہبازشریف نے نوازشریف سے اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تبدیلی کے معاملے پر ان کی جماعت مشاورت کے بعد تحریکِ انصاف کو اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت خود اندرونی انتشار کا شکار ہے اور اس کی وجہ سے اس وقت پاکستان کی کوئی داخلی اور خارجہ پالیسی نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ایک ٹولہ ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم یا اسے مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے اور حکومت کو حلف نامے کے ساتھ شرارت کرنے والے کا نام سامنے لانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس وقت قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کے پاس ہے جن کی جماعت ایوان کی دوسری بڑی جماعت ہے۔

تاہم پارلیمان کی تیسری بڑی جماعت تحریکِ انصاف آئندہ انتخابات سے قبل یہ عہدہ خود حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ آئندہ نگران حکومت کی تشکیل اس کی مشاورت سے ہو۔

پاکستان میں انتخابات سے قبل نگران حکومت کی تشکیل کے لیے وزیرِ اعظم قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سے مشاورت کے پابند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG