رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی پرچم کی توہین کا الزام، پی ٹی ایم کے دو کارکن گرفتار


پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نثار محمد نامی شخص ایک منظم سازش کے تحت جلسہ گاہ میں افراتفری پھیلانے کی غرض سے داخل ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چار سدہ میں پولیس حکام نے پاکستانی پرچم کی توہین اور بے حرمتی کے الزام میں پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے دو کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

دونوں کارکنوں کو چارسدہ شہر میں اتوار کو پی ٹی ایم کے زیرِ اہتمام ہونے والی ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

ضلع چارسدہ کے پولیس تھانہ پٹانگ کے ایس ایچ او گل مالک خان نے پی ٹی ایم کے دو کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی پرچم کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ریلی سے پی ٹی ایم کے مرکزی رہنماؤں سمیت اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے خطاب کیا تھا۔ پی ٹی ایم رہنماؤں نے حکومت اور حکومتی اداروں کی اُن پالیسیوں پر شدید تنقید کی تھی جو مبینہ طور پر پشتونوں کے خلاف ہیں۔

گل مالک خان کے مطابق اتوار کی شام پی ٹی ایم جلسے میں نثار محمد ولد ایاز محمد نامی ایک شخص نے پھٹے ہوئے پاکستانی پرچم کے ساتھ تھانے میں رپورٹ کیا کہ وہ جلسے کے پنڈال میں اسٹیج کے قریب موجود تھا کہ اُس دوران چند کسانوں نے آ کر اس سے قومی جھنڈا زبردستی چھین کر پھاڑ دیا اور زمین پر پھینک دیا۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو گزشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو)
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو گزشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پولیس نے نثار محمد کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو افراد خان زمان ولد سیف اللہ اور نظام الدین ولد عرب نسان کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے پٹانگ تھانے میں دفعہ 123B کے تحت اُن کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

چارسدہ میں پڑانگ پولیس تھانے کے ایس ایچ او گل مالک خان نے پی ٹی ایم کے دو کارکنوں کو قومی پرچم پھاڑنے اور اس کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔

متعلقہ پولیس افسر نے ضلعی پولیس افسران سے ملاقات کرتے ہوئے اُنہیں بھی واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔ البتہ ابھی تک حکومتی اداروں یا صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے سے متعلق باضابطہ طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستانی پرچم کی بے حرمتی سازش قرار

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں نے پشاور سے ملحقہ ضلع چارسدّہ میں اتوار کو نکالی گئی ایک ریلی میں پاکستان کے پرچم کی مبینہ بے حرمتی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور اسے تحریک کے خلاف "سوچی سمجھی سازش کا حصّہ" قرار دیا ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنما رحیم شاہ ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جس وقت ایک شخص پاکستانی پرچم ہاتھوں میں اُٹھائے داخل ہوا تو اسٹیج سے کارکنوں کو تنبیہ کی گئی کہ وہ پر امن اور محتاط رہیں۔ یہ قومی پرچم ہمارا پرچم ہے، اس کی عزت کریں۔

ان کے بقول پرچم لانے والے نوجوان کے ساتھیوں نے گڑبڑ کر کے ازخود قومی پرچم کی بے حرمتی کی اور الزام پی ٹی ایم کے کارکنوں پر لگوایا ہے۔

پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نثار محمد نامی شخص ایک منظم سازش کے تحت جلسہ گاہ میں افراتفری پھیلانے کی غرض سے داخل ہوا تھا اور قومی پرچم ہاتھوں میں تھامے ہوئے تحریک اور رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی کر رہا تھا۔

اُن کا مزید کہنا ہے کہ نثار محمد کو جلسہ گاہ میں خاموش اور پرامن رہنے کی درخواست کی گئی تھی۔ مگر وہ نہ مانے اور جب پی ٹی ایم کے کارکنوں نے انہیں جلسہ گاہ سے باہر نکالنے کی کوشش کی تو اس دوران جھگڑا ہونے کی وجہ سے قومی پرچم کو نقصان پہنچا۔ جس کی ذمہ داری کسی بھی طور پر پی ٹی ایم کے کارکنوں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 16 فروری کو صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ٹی ایم کی ریلی کے بعد دو اراکین قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی سمیت پی ٹی ایم کے 38 رہنماؤں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور ریاست کے خلاف نعرے لگوانے کے الزام میں مقدمات درج ہو چکے ہیں۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو پچھلے ماہ 25 فروری کو لگ بھگ ایک مہینے تک پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں میں قید رکھنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG