رسائی کے لنکس

logo-print

سچن ٹنڈولکر بھی چار روزہ ٹیسٹ میچوں کے خلاف


دنیائے کرکٹ میں ٹیسٹ میچز کے دورانیے کو پانچ دن سے گھٹا کر چار روز کرنے کی تجویز پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ اور سابق کرکٹرز اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

بھارتی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر بھی ٹیسٹ میچ کو چار روزہ کرنے کی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ دیکھنے کے شوقین افراد کی دلچپسی اس اقدام سے کم ہو گی اور وہ ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہو جائیں گے۔

خبررساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کے دوران سچن ٹنڈولکر کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچوں کو زیادہ پرکشش بنانے اور مختصر فارمیٹس کی طرف بڑھنے رجحان کو روکنے کے اور بھی طریقے ہیں۔

ٹنڈولکر نے 2013 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، وہ 15 ہزار 921 رنز اور ریکارڈ 51 سنچریوں کے ساتھ ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کا اصل لطف ہی پانچ روزہ ٹیسٹ میں ہے۔ ٹیسٹ میں نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہمیں ٹیسٹ میچز کو طویل فارمیٹ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ سے ایک روزہ کرکٹ کا آغاز ہوا، جس سے لوگوں نے لطف اٹھایا۔ پھر ٹی 20 فارمیٹ کرکٹ کھیلی جانے لگی اور اگلے مرحلے میں شاید کرکٹ 100 بالز تک محدود ہو جائے۔

ٹنڈولکر کے بقول نئی نسل کی دلچسپی کے لیے متعدد نئی چیزیں تیار کی جارہی ہیں۔ لیکن جب آپ نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں تو ایسے میں پرانی چیزوں کو بھلا تو نہیں سکتے۔

ٹندولکر نے کہا کہ ٹیسٹ میچز کا دورانیہ چار روز کرنے کی بجائے، اس طرز کی کرکٹ کو مزید دلکش بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی گورننگ باڈی ٹیسٹ میچز کو چار دن تک محدود کرنے کی تجویز پرجلد غور کرنے والی ہے۔ آئی سی سی بین الاقوامی کرکٹ کلینڈر کو آزادانہ بنانے اورکھلاڑیوں پر سے کام کا بوجھ کم کرنے کی بھی خواہش مند ہے۔

پچھلی دہائی میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی لیگ کے اضافے کے بعد سے طویل ترین فارمیٹ کا مستقبل موضوع بحث بنا رہا ہے۔

اسٹیڈیم جا کر ٹیسٹ میچ دیکھنے والے افراد کی تعداد میں بھی کمی آرہی ہے۔ سوائے انگلینڈ اور آسٹریلیا میں ہونے والے ٹیسٹ میچز کے باقی تمام ممالک میں ٹیسٹ دیکھنے والوں کی تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔

چار روزہ میچوں کو آئی سی سی نے 2017 میں گرین سگنل دیا تھا جب جنوبی افریقہ نے زمبابوے کی میزبانی کی تھی اور اس کے بعد انگلینڈ نے آئر لینڈ کے خلاف ایک میچ کھیلا تھا اور یہ دونوں ہی میچ مقررہ پانچ دن سے پہلے ہی ختم ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG