رسائی کے لنکس

پوتن نے ذرائع ابلاغ پر تعزیرات عائد کرنے کے قانون پر دستخط کر دیے


صدر پوتن (فائل فوٹو)

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے نئی قانون سازی پر دستخط کر دیے ہیں جس سے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے مالی وسائل حاصل کرنے والے کسی بھی میڈیا 'غیر ملکی عناصر' قرار دے کر اس کے خلاف پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

یہ نیا قانون روس کے سرکاری انٹرنیٹ پورٹل پر ہفتہ کو جاری کیا گیا۔

یہ مسودہ قانون ایوان بالا 'فیڈریشن کونسل' نے گزشتہ بدھ کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا جب کہ ایوان زیریں 'ڈوما' 15 نومبر کو اسے حتمی طور پر منظور کر چکی تھی۔

قانون منظور ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی وزارت قانون نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی متعدد سروسز کو انتباہ جاری کر دیا۔

ان انتباہی خطوط میں یہ تو واضح نہیں کیا گیا کہ ان سروس کو کن تعزیرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن قانون سازوں کا کہنا ہے کہ 'غیر ملکی عناصر' قرار دیے جانے والے میڈیا کو اپنی مکمل مالی وسائل کی تفصیل فراہم کرنا پڑ سکتی ہے۔

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی ان متعدد ذرائع ابلاغ میں شامل ہے جنہیں روسی حکام نے 'غیر ملکی عناصر' قرار دینے سے متعلق خبردار کیا ہے۔ اس فہرست میں وائس آف امریکہ، سی این این اور جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ڈوئچے ویلے بھی شامل ہیں۔

صدر پوتن کی طرف سے قانون سازی پر دستخط کیے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریڈیو فری یورپ کے صدر تھامس کنٹ کا کہنا تھا کہ "ہم اس موقع پر کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے کہ نئے قانون کے مضمرات کیا ہوں گے کیونکہ تاحال کسی بھی تنظیم کو 'غیرملکی عناصر' قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان پر تعزیرات عائد کی گئی ہیں۔"

ان کے بقول "ہم اپنے روسی بولنے والے سامعین کو درست اور بامقصد خبر پہنچانے کے لیے بدستور اپنا صحافتی کام جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔"

براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنرز جو کہ وائس آف امریکہ اور ریڈیو فری یورپ کا نگران ادارہ ہے، اس کے ڈائریکٹر جان لانسنگ نے ایک بیان میں کہا کہ "ریڈیو فری یورپ، وائس آف امریکہ اور امریکی بین الاقوامی نشریاتی ادارے امریکی قوانین کے مطابق اپنے کام جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں گے جن کا مقصد ہمارے بین الاقوامی سامعین/ناظرین بشمول روسی ناظرین کے لیے جامع، بامقصد اور درست صحافت پر مبنی مواد پہنچانا ہے۔"

انھوں نے کہا کہ "ہم روسی حکام کی طرف سے ہمارے کام سے متعلق بھیجے جانے والے مراسلوں کا بغور جائزہ لیں گے اور ایسے میں ہم کوئی قیاس آرائی نہیں کریں گے۔"

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی روس میں میڈیا کی آزادت کے لیے "سنگین دھچکہ" ثابت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG