رسائی کے لنکس

logo-print

محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف ریڈیو پاکستان کی ٹوئٹس پر تنقید


فائل فوٹو

پاکستان کی قومی اسمبلی کے دو ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کے حوالے سے منگل کو سرکاری براڈ کاسٹنگ ادارے ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دو ٹوئٹس کی گئیں۔ جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کے اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پاکستان مخالف قوتوں کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی جانے والی یہ ٹوئٹس چھ گھنٹے بعد ادارے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہٹا دی گئی تھیں۔

اس بارے میں حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ البتہ ریڈیو پاکستان کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ریڈیو پاکستان صرف خبر دینے والا ادارہ ہے۔ وہ کبھی بھی کسی شخص یا ادارے کے بارے میں ذاتی رائے نہیں دیتا۔ لہذا ٹوئٹر اکاؤنٹ اور ویب سائٹ پر دو ارکان اسمبلی کے بارے میں ایسی خبر آنا ناقابلِ یقین ہے۔

ٹوئٹس میں لکھا گیا تھا کہ پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر کو کابل میں افغان نیشنل آرمی کی طرف سے خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔ دونوں ارکان قومی اسمبلی صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں افغان آرمی کے ہیلی کاپٹر پر کابل پہنچے تھے۔

دوسری ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی ایم کے دونوں رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر پاکستان مخالف قوتوں کے سہولت کار ہیں۔ جو پاکستان میں افغانستان کے ذریعے بھارتی ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے یہ ٹوئٹس منگل کی صبح محسن داوڑ اور علی وزیر کی تصاویر کے ساتھ شائع ہوئے۔ تاہم 6 گھنٹوں کے بعد ان ٹوئٹس کو ڈیلیٹ کردیا گیا لیکن اس دوران ان کو ہزاروں مرتبہ شیئر کیا جا چکا تھا۔

ان ٹوئٹس کے حوالے سے تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ کسی رکن اسمبلی کو بغیر کسی عدالت یا مقدمے کے پاکستان مخالف کہہ دینا حیرت انگیز ہے۔

ان کے بقول یہ دونوں ارکان قومی اسمبلی حکومت پاکستان کی اجازت کے ساتھ اور باقاعدہ ویزا حاصل کرکے اس تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ ایسے میں ایک سرکاری ادارے کی طرف سے ایسے الزامات عائد کرنا درست نہیں۔

دونوں ارکان قومی اسمبلی پر پہلی مرتبہ اس طرح کے الزامات نہیں لگائے گئے ۔ ماضی قریب میں بھی ان پر اسی قسم کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

گزشتہ سال وزیرستان میں خرکمر کے مقام پر پاکستان کی فوج کے ساتھ ہونے والے تصادم کے بعد دونوں ارکان اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو بھی گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا لیکن انہیں بھی ضمانت پر رہائی دی گئی ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کی ایک حامی ثنا اعجاز کہتی ہیں کہ پاکستان میں ماضی میں بھی کئی شخصیات پر غداری کے الزامات لگا کر انہیں ملک دشمن قرار دیا گیا ہے۔

ان کے بقول پاکستان میں باچا خان کو بھی غدار قرار دیا گیا اور کئی سیاست دانوں پر ایسے ہی الزامات لگے ہیں۔ یہاں جو بھی حق اور سچ کی بات کرے، ان پر غداری کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کو دو روز قبل افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے قبل اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر روک لیا گیا تھا۔

محسن داوڑ کے مطابق ایف آئی اے حکام نے انہیں بتایا کہ ان کا نام ای سی ایل میں ہے۔ تاہم بعد میں وزیرِ اعظم عمران خان کی مداخلت پر انہیں ایک مرتبہ ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے طورخم تک سڑک کے ذریعے اور پھر ہیلی کاپٹر سے کابل تک کا سفر کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG