رسائی کے لنکس

logo-print

الیکشن سے قبل پلوامہ جیسا حملہ پھر ہو سکتا ہے: راج ٹھاکرے کا دعویٰ


سخت گیر، شو سینا پارٹی کا نئی دہلی میں مظاہرہ (فائل)

پاکستان جیش محمد کے تربیتی مرکز کے تباہ کرنے کے بھارت کے دعوے کی تردید کرتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے چیف راج ٹھاکرے نے پلوامہ خو دکش حملے کو بھارت میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ”الیکشن جیتنے کے لیے مستقبل قریب میں پلوامہ جیسا حملہ پھر ہو سکتا ہے۔“

وہ ایم این ایس کے 13 ویں یوم تاسیس پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے سوال کیا کہ پلوامہ حملے میں 40 جوان ہلاک ہوئے، کیا ہمیں اب بھی سوال نہیں پوچھنا چاہیئے۔ بقول ان کے ”بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے بینکاک میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔ ہمیں کون بتائے گا کہ دونوں میں کیا باتیں ہوئی تھیں۔“

انھوں نے الزام لگایا کہ حملے سے قبل انٹلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے وارننگ جاری کی گئی تھی مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔

راج ٹھاکرے نے بی جے پی صدر امت شاہ کے اُس بیان پر نکتہ چینی کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مبینہ طور پر بالاکوٹ میں 250 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا آیا ''امت شاہ فضائیہ کے طیارے میں کو پائلٹ تھے کہ ان کو معلوم ہو گیا''۔

خیال رہے کہ پاکستان جیش محمد کے تربیتی مرکز کے تباہ کرنے کے بھارت کے دعوے کی تردید کرتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔

یہاں فضائی کارروائی پر کافی تنازعہ ہے اور متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنما اس کے ثبوت مانگ رہے ہیں اور یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ امت شاہ کو کیسے معلوم ہوا کہ 250 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ نہ تو حکومت نے بتایا اور نہ ہی فضائیہ نے۔ بلکہ فضائیہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ''ہم نے کارروائی کی لاشیں گننا ہمارا کام نہیں''۔

پلوامہ حملے میں ہلاک ہونے والے بعض جوانوں کے ورثا نے بھی بالاکوٹ میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والوں کی لاشیں دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے فضائیہ کو غلط اطلاع دی تھی جس کی وجہ سے اس کا نشانہ چوک گیا۔

ایم این ایس چیف نے کہا کہ مودی نے خود کہا ہے کہ اگر رافیل جنگی طیارہ ہمارے پاس ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

انھوں نے دہشت گردوں کے مارے جانے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو بھارتی پائلٹ کو پاکستان کے قبضے سے آنے کی اجازت نہیں ملتی۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کی فضائیہ نے جس مقصد کے لیے کارروائی کی تھی ''اس میں کامیاب رہی''۔ فضائیہ کے سربراہ کا بھی کہنا ہے کہ ''ہمیں جو ہدف دیا گیا تھا ہم نے اس کو پورا کیا''۔

یہاں عام طور پر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ”الیکشن جیتنے کے لیے بی جے پی کچھ بھی کر سکتی ہے۔“

پلوامہ حملے سے قبل جب رافیل جنگی طیارہ سودے کے سلسلے میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر حملہ کیا جا رہا تھا تو اس وقت بھی بہت سے لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے مبینہ طور پر کچھ کرے گی۔

بہت سے لوگ پلوامہ حملے پر سوال پوچھ رہے ہیں کہ ''جب حملے کی اطلاعات تھیں تو ان کو نظرانداز کیوں کیا گیا''۔

یو ٹیوب وغیرہ پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں پلوامہ حملے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان ویڈیوز کی صداقت کی تصدیق ممکن نہیں۔

سیاسی جماعتیں فضائیہ کی کارروائی پر تو سوال نہیں اٹھا رہی ہیں البتہ وہ ہلاکتوں کی تعداد ضرور پوچھ رہی ہیں۔ وہ حکومت پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ پلوامہ حملے اور فضائی کارروائی سے ''سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے''؛ جبکہ حکومت اپوزیشن پر اس معاملے کو ''سیاسی رنگ دینے'' کا الزام عائد کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG