رسائی کے لنکس

logo-print

'کشمیر کے لیے آواز ضرور اٹھائیں لیکن بیٹیوں کو بھی تو واپس لائیں'


زیبا ایسی درجنوں اُن خواتین میں شامل ہیں جو شادی کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر منتقل ہو گئی تھیں۔

نوے کی دہائی ميں ہزاروں کی تعداد ميں کشميری نوجوانوں نے حالات خراب ہونے کے باعث لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستانی زيرِ انتظام کشمير کے مختلف علاقوں ميں پناہ لی تھی۔

دو ہزار دس ميں اس وقت کے بھارتی زيرِ انتظام کشمير کے وزيرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے عام معافی اور نوجوانوں کو سوشل دھارے ميں واپس لانے کی پاليسی کا اعلان کيا گيا تھا۔

اِس وقت مظفر آباد کے مختلف کيمپوں ميں بھارت کے زيرِ انتظام کشمير سے نقل مکانی کرنے والے 35 ہزار سے زائد افراد مقيم ہيں۔

پینتیس سالہ زيبا ان درجنوں پاکستانی خواتين ميں سے ايک ہيں جو 2012 ميں اپنے شوہر راشد خان کے ہمراہ بھارت کے زيرِ انتظام کشمير منتقل ہوئی تھیں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے زيبا نے بتايا کہ 2003 ميں ان کے والدين نے ان کی شادی ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ايک ايسے ہی کشميری نوجوان سے کر دی تھی جو سرحد پار سے آيا تھا۔

تاہم عمر عبداللہ کی جانب سے متعارف کردہ پاليسی کے تحت انھوں نے سرنڈر کيا اور 2012 ميں وہ تين بچوں کے ہمراہ شوہر کے ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمير چلی گئیں۔

زیبا کے بقول، "وہاں جا کر میرے لیے حالات خوش گوار ثابت نہ ہوئے اور اگلے ہی سال میری شوہر سے عليحدگی ہو گئی۔"

اس وقت سے اب تک زيبا اپنی دو جڑواں بيٹيوں (عمر 14 سال) اور ايک بيٹے (عمر 16 سال) کے ساتھ سری نگر ميں رہ رہی ہيں۔

زیبا- پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والی خاتون۔
زیبا- پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والی خاتون۔

زیبا کے مطابق وہ ايک کمرے کے مکان ميں کرایہ پر رہ رہی ہيں اور اپنا اور اپنے بچوں کا خرچہ ٹيوشن پڑھا کر پورا کر رہی ہيں۔

انہوں نے بتايا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اُنہيں اور ان کے بچوں کو شناخت کے بہت زيادہ مسائل ہيں۔ اور لوگ اُنہيں مکان کرايہ پر دينے، روزگار اور بچوں کو اسکولوں ميں داخلہ دينے سے کتراتے ہيں۔

زيبا کے مطابق انہوں نے 2016 ميں بھارتی پاسپورٹ کے لیے درخواست بھی دی تھی ليکن ان کی درخواست غير قانونی مہاجر کی بنياد پر مسترد کر دی گئی تھی۔

اُن کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے اُنہيں يہ بھی بتايا کہ اب تک کسی بھی ايسے پاکستانی کو شہريت نہیں دی گئی جو سرحد پار سے کشمير ہجرت کر کے آيا ہو۔

زیبا نے کہا کہ انہوں نے کئی بار بھارتی حکام کو کہا کہ اگر وہ بھارتی قانون کے مطابق غیر قانونی طور پر یہاں رہائش پذیر ہیں تو اُنہیں بے دخل کر دیا جائے لیکن اس حوالے سے بھی کبھی ان کی درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

زیبا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر آنے والی خواتین کے لگ بھگ 300 کیسز ہیں اور سب شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کے بقول، ایسی خواتین کو سالوں گزرنے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کی کوئی خیر خبر نہیں ہوتی جب کہ چند خواتین ذہنی دباؤ کی وجہ سے موت کے منہ میں بھی جا چکی ہیں۔

زيبا ان اموات کو قدرتی موت تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق کئی خواتین بیوہ ہو چکی ہیں اور کئی خاندان ٹوٹ چکے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر آنے والی خواتین کو نہ تو شناخت دی جا رہی ہے اور نہ ہی انہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔

زيبا کی طرح کبریٰ گیلانی بھی ایسی ہی خاتون ہیں جن کا تعلق پاکستان کے زيرِ انتظام کشمير کے علاقے مظفر آباد سے ہے۔ وہ 2014 ميں اپنے خاوند کے ساتھ سرحد پار گئی تھیں۔

زيبا کی طرح ان کی ازدواجی زندگی بھی کچھ زيادہ عرصہ نہ چل سکی اور 2018 ميں ان کی طلاق ہو گئی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے کبریٰ گیلانی نے بتايا کہ دو سال سے وہ ايک کمرے کے مکان ميں اکيلی رہ رہی ہيں جہاں انہیں بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔

ياد رہے کہ کبری گيلانی نے گزشتہ سال واہگہ بارڈر کے ذريعے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی ليکن بھارتی حکام نے انہیں دستاويزات کی کمی کے باعث واپس بھيج ديا تھا۔

'کسی طرح بیٹی واپس آ جائے'

کبری گيلانی کے خاندان نے بارہا کوششيں کيں کہ کسی طرح سے ان کی بيٹی واپس آ جائے۔ ليکن اُن کے مطابق ان کی کسی بھی سطح پر شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے کبری گيلانی کی والدہ پروين کاظمی نے بتايا کہ وہ اپنی بيٹی کی واپسی کے بارے میں ہر سرکاری و غير سرکاری تنظيموں کے پاس گئيں ليکن ان کی فرياد کسی نے بھی نہیں سنی۔

پروين کاظمی نے مزيد بتايا کہ ان کے شوہر اپنی بيٹی کی حالت زار کے بارے ميں بہت فکر مند تھے اور کبریٰ کی طلاق کی خبر سن کر انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

سری نگر ميں زيبا کو اپنے بچوں کے مستقبل کی شديد فکر لاحق ہے۔ وہ سمجھتی ہيں کہ جب انہيں کوئی تسليم نہیں کر رہا تو ان کے بچوں کی تعليم اور روزگار کا کيا بنے گا۔ کيوں کہ ان کے پاس تو اپنی شناخت کا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتے ہيں۔

زیبا کے مطابق پاکستانی حکومت کو انسانی ہمدردی کی بنياد پر اپنے شہريوں کے بارے ميں سوچنا چاہیے۔

ان کے بقول، "بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو ایسے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں جو پاکستان سے وہاں منتقل ہوئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو تو سرے سے پتا ہی نہیں کہ کتنی خواتين اور بچے يہاں رہ رہے ہيں۔ ان کے مطابق انہوں نے اس بابت بے شمار احتجاج ريکارڈ کرائے ليکن انہيں پاکستان کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔

یاد رہے کہ پاکستان ہر سال سرکاری طور پر پانچ فروری کو يوم يکجہتی کشمير کے طور پر مناتا آ رہا ہے۔ جس کا مقصد بھارت کے زيرِ انتظام کشمير کے ان کشميريوں کے ساتھ اظہار يکجہتی کرنا ہے جو بھارت سے علیحدگی کے خواہاں ہيں۔

پانچ فروری کو ملک بھر ميں عام تعطيل کے علاوہ ان ہزاروں لوگوں کی ياد ميں بھی ايک منٹ کی خاموشی کا اہتمام کيا جاتا ہے۔

زيبا کے مطابق پاکستان کا کشمیر کے معاملے پر کشميريوں کے ساتھ کھڑے ہونا خوش آئند بات ہے ليکن پاکستان کو سب سے پہلے اپنے شہريوں کے بارے ميں سوچنا چاہیے اور انہيں سياست کا حصہ نہ بنايا جائے

زیبا نے کہا کہ جس طرح بھارتی حکومت نے اپنے شہريوں کو واپس بلايا ٹھيک اسی طرح پاکستانی حکومت کو بھی اپنے بچوں اور بيٹيوں کو واپس بلا لينا چاہیے۔

سماجی رہنما انصار برنی گزشتہ 40 سال سے انسانی اور شہری حقوق کے مسائل پر کام کر رہے ہيں۔ اُن کے مطابق تقريباً 100 کے قريب خواتين ان کی ٹرسٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہيں۔ اور وہ ان کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھا رہے ہيں تاہم وہ موجودہ حکومتی اقدامات سے خوش نہیں ہيں۔

'پاکستانی بھارتی کشمیر میں گرفتار ہو سکتے ہیں'

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انصار برنی نے بتايا کہ ايسی خواتين جو پاکستان سے سرحد پار اپنے شوہروں کے ساتھ گئی ہيں ان کی تعداد 300 سے زائد ہے اور کچھ يہاں سے اپنے ساتھ بچے لے کر گئی ہيں جبکہ کچھ کے بچے وہيں ہوئے اور سب شناخت کے مسائل کا شکار ہيں۔

انصار برنی کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے بھارتی وزيرِ اعظم نريندرا مودی کو خط بھی لکھا تھا لیکن تاحال اس پر کوئی پيش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اُن کے مطابق بھارت کی جانب سے گزشتہ سال کشمير کی خصوصی حيثيت کے خاتمے کے بعد سے تمام اميديں دم توڑ رہی ہيں۔

ياد رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارتی زيرِ انتظام کشمير کی خصوصی آئينی حيثيت کو ختم کر ديا تھا جس کے بعد جموں و کشمير کو عليحدہ 'يونين ٹيريٹری' بنايا گيا۔ اس سے قبل سيکورٹی اور خارجہ امور کو چھوڑ کر ديگر تمام امور رياست کو فيصلہ کرنے کا اختيار تھا۔

انصار برنی کے مطابق آرٹيکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستانی خواتين کو بھارتی شہريت نہی دی جا سکتی۔ خدشہ ہے کہ اگر ایسے خاندانوں کو شہریت نہیں مل سکتی جو وہاں گئے تھے تو بھارتی حکومت ان تمام خاندانوں کو غير قانونی طور پر رہائش کے جرم ميں گرفتار بھی کر سکتی ہے۔

انصار برنی نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمير کے لیے آواز ضرور اٹھانی چاہیے ليکن اسلام آباد کو سب سے پہلے اپنی بيٹيوں کو پُر امن طريقے سے واپس لانے ميں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

'پاکستان صورتِ حال سے آگاہ ہے'

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس ساری صورتِ حال سے آگاہ ہے۔ وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بتايا کہ پاکستان نے ان خواتين کی وطن واپسی کا معاملہ ہندوستان کے ساتھ اٹھايا ہے اور وہاں سے جواب کے منتظر ہیں۔

عائشہ فاروقی نے مزيد بتايا کہ دفتر خارجہ مذکورہ خواتين کی جلد وطن واپسی کے لیے ہر سطح پر ہندوستانی حکومت کے ساتھ اس معاملے کی پيروی کرتا رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG