رسائی کے لنکس

logo-print

عید پر شامی کباب ضروری ہیں!


فائل فوٹو

خاندان میں کوئی ایک ضرور ہوتا ہے جو زبردست کھانا پکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب بھی سارا خاندان اکھٹا ہو تو ان سے کچھ نہ کچھ پکانے کی فرمائش کی جاتی ہے۔

ہمارے خاندان میں وہ شخصیت میری ماں ہیں۔ سالگرہ کی پارٹی ہو یا کسی اور خوشی میں خاندان اکٹھا ہو، ان سے دھواں گوشت، مٹن کڑاہی، بریانی، دیسی چائنیز یا کباب جیسی چیزوں کی فرمائش ہوتی ہے۔ اور میٹھے کی تو بات ہی نہ کریں کیونکہ اس کی فہرست بہت لمبی ہے۔

والدہ کو کھانے پکانے کا جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ کچن کا کام ہمیشہ خود سنبھالے رکھتی ہیں۔ ایک ہی شہر اسلام آباد میں ان سے علیحدہ رہ کر بھی جب جی چاہتا، میں ان کے ہاتھ کا کھانا کھانے پہنچ جاتی۔ میرے دوستوں کو بھی ان کے ہاتھ کا کھانا پسند ہے۔

پچپن میں ان کے ساتھ بہت وقت کچن میں گزارا۔ مجھے سب سے زیادہ شوق تھا۔ ہر اتوار کو حلوہ پوری بنانے میں ان کی مدد کرتی۔ سکول سے واپسی پر بھی سیدھی باورچی خانے میں جاتی لیکن کھانا بنانے کا شوق پھر بھی نہیں ہوا۔

امریکہ آنے کے بعد والدہ اور ان کے پکوان کو سب سے زیادہ یاد کرتی ہوں۔ یہاں دیسی کھانا تو مل جاتا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے منگواتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے خود کھانا پکانا شروع کرنا پڑا۔

میں نے گزشتہ دو ماہ میں کئی بار کھانا پکایا۔ کبھی شوق سے اور کبھی مجبوری میں۔ گزشتہ کئی دنوں سے بہت دل چاہ رہا تھا کہ ماما عباسی جیسے شامی کباب بناؤں لیکن پہلے کبھی بنائے نہیں تھے۔ شبہ تھا کہ پتا نہیں بن پائیں گے یا نہیں۔

ماں کو میں پیار سے ماما عباسی کہتی ہوں۔ میں نے انھیں فون ملایا تو وہ جاگ رہی تھیں کیونکہ اسلام آباد میں کچھ دیر میں سحری کا وقت تھا۔ ان سے شامی کباب کی ترکیب پوچھنے کے بعد میں نے کام کا آغاز کردیا۔

بچپن کی یاد کے سہارے میں چنے کی دال کو پہلے ہی بھگو چکی تھی۔ میں نے ایک برتن میں دال، بکرے کا گوشت، پیاز، ثابت گرم مصالہ، تھوڑا مزید زیرہ کیونکہ مجھے بہت پسند ہے، ثابت اور پسی ہوئی لال مرچ، ہلدی، نمک، کڑی پتہ، سوکھا دھنیا، کلونجی، تھوڑی سی اجوائن اور پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیا۔ شامی کباب میں قیمے سے زیادہ مجھے گوشت اچھا لگتا ہے کیونکہ گوشت کے ریشے کباب کو بہترین بنا دیتے ہیں۔

ماما عباسی شامی کباب کے لیے کبھی قیمہ استعمال نہیں کرتیں۔ انھیں ڈبے والے مسالے بھی پسند نہیں۔ میں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لاک ڈاؤن کے پہلے ہی دن دیسی سٹور سے سارے ثابت اور پسے ہوے مصالے خرید لیے تھے۔ ماما عباسی کی کوکنگ میں اجوائن اور کلونجی کا عمل دخل کافی زیادہ ہے۔ ان کی ساتھ میتھی دانہ بھی لے لیں تو اچاری آلو کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان مصالحوں کی خوشبو ہفتوں آپ کے گھر میں بسی رہے گی۔

جب پانی ختم ہوگیا تو گوشت گل گیا مگر دال گلنا باقی تھی۔ ماں نے بتایا کہ رات بھر دال گیلی رہنے سے سخت ہوجاتی ہے اس لیے اسے فوڈ پروسیسر میں پیس لو۔ اس وقت خیال آیا کہ یہ مشین گھر میں ہونی چاہے۔ میرے پاس نہیں تھی تو مجھے چمچے کا استعمال کرنا پڑا تاکہ دال پس جائے۔ کافی مشقت کے بعد مصالوں اور دال سے بھرا گوشت تیار ہوگیا۔

ماما عباسی ہمیشہ کہتی ہیں کہ خود پکا کر کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ کسی حد تک ان کی یہ بات اب سمجھ میں آرہی تھی لیکن میں یہ جاننے کے لیے بے تاب تھی کہ کباب کیسے بنیں گے۔

اگا مرحلہ کباب کو انڈے کے بغیر فرائی کرنے کا تھا کیونکہ مجھے شامی کباب پر انڈا لگانا پسند نہیں۔ ماما عباسی کو بھی کھانوں کی ترکیب کو نیا انداز دینا پسند ہے۔ انھیں سے سیکھا کہ کھانے میں اپنا منفرد ذائقہ کیسے ڈالتے ہیں۔

شامی کباب تیار ہوگئے۔ دال، نمک، مرچ ہر شے حسب ذائقہ نکلی۔ اگر ہم دفتر جا پاتے تو میں بہت خوشی سے ساتھیوں کو اپنے ہاتھ کے بنے شامی کباب کھلاتی۔ لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے سب ہی گھر سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ چند ساتھیوں کو میں نے تصاویر ضرور بھیجیں۔

کرونا وائرس نے کھانا پکانے کا خیال اور عمل میرے لیے ممکن بنادیا ہے۔ ماما عباسی کی طرح کھانے پکانے کا جنون تو پیدا نہیں ہوپایا لیکن جب جو جی چاہے، وہ بنانے کے قابل ضرور ہوگئی ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG