رسائی کے لنکس

logo-print

حامد میر کے والد کے نام سے موسوم انڈر پاس کا نام کیوں تبدیل کیا گیا؟


فائل فوٹو

حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے کینال روڈ پر واقع وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا ہے۔

اس حکومتی اقدام پر متعدد حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ اِسے درست جبکہ کچھ اِسے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وارث میر پاکستان کے معروف صحافی حامد میر کے والد تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چند روز قبل صوبے کے تمام شہروں میں ایک سڑک کشمیر کے نام سے منصوب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے یہ اعلان بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کشمیریوں سے اظہار یکجتی کے لیے کیا تھا۔

وارث میر کون؟

وارث میر کے آبا ؤ اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے۔ ان کے والد میر عبد العزیز اُردو اور پنجابی کے شاعر تھے۔

وارث میر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے جبکہ سٹی یونیورسٹی لندن سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ جامعہ پنجاب میں درس ورتدریس سے منسلک ہو گئے۔ بعد ازاں شعبہ صحافت کے سربراہ بھی بنے۔

وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ وارث میر کی وجہ شہرت فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں مارشل لا کی مخالفت، جمہوریت کی بحالی اور آزادی صحافت کے حوالے سے لکھی جانے والی تحاریر تھیں۔

ضیا الحق کی آئینی ترامیم، ریفرنڈم، شریعت بل اور اخبارات پر پابندیوں کے خلاف وارث میر کی تحریروں نے اُن کے لیے مشکلات بھی پیدا کیں۔

انہوں نے 'وارث میر کا فکری اثاثہ'، 'حریتِ فکر کے مجاہد'، 'فوج کی سیاست' اور 'کیا عورت آدھی ہے' کے عنوانات سے کتابیں بھی لکھیں۔

وارث میر کو ان کی خدمات کے پیشِ نظر حکومت پاکستان نے سب سے بڑے سِول اعزار 'ہلال امتیاز' جبکہ بنگلہ دیش کی حکومت نے 'فرینڈز آف لبریشن وار آنر ایوارڈ' دیے تھے۔

ان کی خدمات کے پیش نظر ہی 2013 میں صوبائی حکومت نے جامعہ پنجاب سے ملحقہ انڈر پاس کو وارث میر انڈر پاس کا نام دیا تھا۔

حامد میر کا موقف

وارث میر کے صاحبزادے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ زید حامد وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں وارث میر انڈر پاس کے خلاف بات کی ہے۔

'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ انہوں نے مختلف حکومتی لوگوں سے انڈر پاس کا نام تبدیل کرنے کی وجہ پوچھی لیکن کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ حکومت پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے اُنہیں بتایا کہ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے زیر زمین گزر گاہ کا نام 'وارث میر انڈر پاس' سے تبدیل کر کے 'کشمیر انڈر پاس' رکھا گیا ہے۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ کیا ایک چھوٹے سے انڈر پاس کا نام تبدیل کرنے سے کشمیر کا مسئلہ اجاگر ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ کسی بڑی شاہراہ کا نام کشمیر کے نام پر رکھے۔

حامد میر کے بقول زاہد حامد سمجھتے ہیں کہ یہ سب لوگ غدار ہیں جن کے نام پر انڈر پاسز ہیں۔ وہ ہر کسی کو غدار سمجھتے ہیں۔ وارث میر نے تمام عمر پاکستان کے خلاف کوئی کالم نہیں لکھا البتہ وہ آمریت کی مخالفت ضرور کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آمریت کی مخالفت پر فاطمہ جناح کو ایوب خان نے غدار قرار دیا تھا اِس قسم کی غداری تو ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی انڈر پاس کا نام تبدیل کر دینے سے انہیں یا وارث میر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اُن کے نزدیک یہ بہت ہی معمولی بات ہے۔ صرف کشمیر کے نام کا سہارا لیا گیا ہے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اُن کے آبا ؤ اجداد نے تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لیا اور جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو اِس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ جس کسی نے بھی یہ کیا ہے اُس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ سامنے آ کر اِس کی وجہ بھی بتائے۔

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمںٹ لاہور کا مؤقف

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اِس معاملے میں بے اختیار ہیں۔ انہوں نے صرف حکم کی تعمیل کی ہے۔

عہدیدار کے مطابق انڈر پاس کا نام تبدیل کرتے وقت قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے حکم آیا کہ انڈر پاس کا نام تبدیل کر دیا جائے تو ہم نے کر دیا۔

قواعدوضوابط

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے عہدیدار نے سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے بتایا کہ جب بھی کسی سٹرک، باغ، گلی، انڈر پاس یا کسی بھی چیز کا نام رکھا جاتا ہے یا تبدیل کیا جاتا ہے تو قواعد و ضوابط کے مطابق اخبار میں اشتہار دیا جاتا ہے۔

اخبار میں اشتہار دینے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو عوامی عدالت لگا کر اُسے دور کیا جا سکے۔ اس کے لیے تین دن کا وقت مقرر ہوتا ہے۔

قوانین پر عمل در آمد کے حوالے سے عہدیدار نے بتایا کہ وارث میر انڈر پاس کا نام رکھتے وقت ایسا نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور سمیت پورے پنجاب کے تمام اضلاع میں کسی ایک سڑک کا نام کشمیر کے نام پر رکھیں گے۔ لیکن لاہور میں تو پہلے سے ایک سڑک موجود ہے جس کو کشمیر روڈ کہا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے احمد ولید نے کہا کہ حامد میر کے والد وارث میر کی پاکستان کے لیے بطور اُستاد اور صحافی بہت زیادہ خدمات تھیں۔

اُن کے خیال میں حکومت نے ذاتی عناد کے باعث انڈر پاس کا نام تبدیل کیا ہے۔

احمد ولید کہتے ہیں کہ لاہور میں اور بھی انڈر پاسز تھے اُن کے نام تبدیل ہو سکتے تھے لیکن حکومت نے اِسی انڈر پاس کو چُنا، جس کے لیے تمام قواعد و ضوابط کو اختیار بھی نہیں کیا گیا صرف ایک حکم پر نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حامد میر پاکستان کے واحد صحافی تھے جن کو عمران خان ٹوئٹر پر فالو کرتے تھے چند دن پہلے وزیر اعظم نے حامد میر کو اَن فالو کیا اور اُس کے بعد حکومت پنجاب نے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کو انڈر پاس کے نام کی تبدیلی کے احکامات دیے۔

احمد ولید کا کہنا تھا کہ کسی بھی سڑک یا انڈر پاس کا نام رکھنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار بھی اختیار نہیں کیا گیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے ذاتی عناد کی بنیاد پر ایسا کیا ہے جو کہ کسی صورت بھی مناسب نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ نے پنجاب کی حکومت کا مؤقف جاننے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گِل سے رابطہ کیا تاہم وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کشمیر روڈ کے نام سے ایک سڑک پہلے ہی موجود ہے۔ گورنر ہاؤس کے عقب میں سڑک کو کشمیر روڈ کہا جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق حکومت کے خلاف سخت مؤقف اپنانے اور لاپتہ افراد کے لیے آواز اُٹھانے پر حامد میر کے والد کے نام سے منصوب انڈر پاس کا نام تبدیل کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG