رسائی کے لنکس

logo-print

'سی آئی اے' نے امریکی عوام کو گمراہ کیا، رپورٹ


رپورٹ کے مطابق 'سی آئی اے' نے پوچھ گچھ کے متنازع طریقے استعمال کرکے شدت پسندوں سے اہم معلومات حاصل کرنے اور اس کی بنیاد پر دہشت گرد حملے ناکام بنانے کے جو دعوے کیے، وہ سراسر جھوٹ تھے۔

امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 'سی آئی اے' مشتبہ دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کے منصوبوں کے متعلق عوام اور قانون سازوں کو کئی برسوں تک غلط معلومات فراہم کرتی رہی تھی۔

امریکی روزنامے 'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ 'سی آئی اے' نے پوچھ گچھ کے متنازع طریقے استعمال کرکے شدت پسندوں سے اہم معلومات حاصل کرنے اور اس کی بنیاد پر دہشت گرد حملے ناکام بنانے کے جو دعوے کیے، وہ سراسر جھوٹ تھے۔

رپورٹ کے مطابق 'سی آئی اے' کے اہلکار قیدیوں پر بدترین تشدد کرنے سے قبل ہی ان سے یہ معلومات حاصل کرچکے تھے لیکن اس کے باوجود انہیں پوچھ گچھ کے متنازع اور تکلیف دہ طریقوں سے گزارا گیا۔

'واشنگٹن پوسٹ' میں منگل کو شائع ہونےو الی ایک خبر کےمطابق سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی یہ رپورٹ 6300 صفحات پر مشتمل ہے جس میں بھی کہا گیا ہے کہ 'سی آئی اے' نے قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی تفصیلات قانون سازوں سے چھپائے رکھیں اور انہیں حقیقت سے لاعلم رکھا تھا۔

مذکورہ رپورٹ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی جانب سے 'سی آئی اے' کے متنازع اور پرتشدد 'انٹیرو گیشن پروگرام' کی گزشتہ چار برسوں سے جاری تحقیقات کا نتیجہ ہے۔

اس 'انٹیرو گیشن پروگرام' کا آغاز امریکہ پر 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔

مشتبہ شدت پسندوں اور قیدیوں کےساتھ ظالمانہ اور ناروا سلوک اور تفتیش کے دوران تشدد کرنے کے الزامات اور شواہد سامنے آنے کےبعد امریکی حکومت نے اس پروگرام پر پابندی عائد کردی تھی اور اس میں ملوث اہلکاروں کےخلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 'سی آئی اے' کے قیدیوں کے ساتھ اس سلوک پر خود ایجنسی کے اندر بھی سخت اختلافات موجود تھے۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک موقع پر تھائی لینڈ میں قائم 'سی آئی اے' کے خفیہ قید خانے میں قیدیوں سے پوچھ گچھ کے دوران ان کے ساتھ کیے جانے والے "ظالمانہ برتاؤ" سے گھبرا کر تفتیش کی نگرانی کرنے والے ایجنسی کے بعض افسران بھی وہاں سے چلے گئے تھے۔

سینیٹ کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے اپنی ضخیم رپورٹ جائِزے اور اپنا موقف واضح کرنے کے لیے 'سی آئی اے' کے حکام کو بھجوادی ہے جن کا جواب آنے کے بعد اس کے کچھ حصوں کو عوام کے لیے جاری کیا جاسکتا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ارکان تحقیقاتی رپورٹ کی تلخیص عوام کو جاری کرنے کی سفارش کے ساتھ اسے صدر براک اوباما کو بھجوانے کی منظوری رواں ہفتے دے دیں گے۔

گزشتہ ماہ سینیٹ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر ڈیانے فیسنٹن نے 'سی آئی اے' پر تحقیقات کے دوران کمیٹی کے زیرِ استعمال رہنے والے کمپیوٹر نیٹ ورک کی جاسوسی کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے جس کے بعد یہ معاملہ خاصا گھمبیر ہوگیا تھا۔

'سی آئی اے' کے حکام نے جوابی الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹ کمیٹی کے بعض معاونین نے تحقیقات کے دوران ایجنسی کی بعض خفیہ دستاویزات غیر قانونی طور پر ہتھیا لی تھیں۔
XS
SM
MD
LG