رسائی کے لنکس

مصر: پولیس کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کی رپورٹنگ پر خاتون صحافی گرفتار


رپورٹر باسمہ مصطفی

مصر کے حکام ایک خاتون صحافی کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ جنوبی شہر اقصر میں مبینہ پولیس چھاپے کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کی رپورٹنگ کے لئے گئی تھیں۔ یہ بیان خاتون صحافی کے اہل خانہ اور نیوز ویب سائٹ نے دیا ہے۔

نیوز ویب سائٹ 'ال مناسا' کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹر باسمہ مصطفیٰ ہفتے کی صبح اقصر پہنچی تھیں تاہم پھر دفتر سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ ال مناسا نے اپنی خبرمیں کہا ہے کہ باسمہ کا خیال تھا کہ پولیس اس شہر میں ان کی نگرانی کر رہی تھی۔

23 سالہ باسمہ دو بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے شوہر کریم عبدل رادی نے بتایا کہ باسمہ کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سیکیورٹی سے متعلق استغاثہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

رادی انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے وکیل ہیں۔ ایک دوسرے وکیل خالد علی نے بھی تصدیق کی کہ باسمہ کو استغاثہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

المناسا نے خبر دی ہے کہ اتوار کے روز استغاثہ نے باسمہ سے تفتیش کی اور انہیں 15 روز تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ باسمہ کے وکلا کو علم نہیں ہے کہ انہیں کن الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ تفتیش کے دوران انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی وکیل ہالہ ڈوما کا یہ کہنا تھا کہ وہ اور باسمہ کے شوہر عبدل رادی تفتیش کے دوران وہاں موجود تھے اور باسمہ پر غلط خبریں پھیلانے اور دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ دہشت گرد گروپ سے ان کی مراد اخوان المسلمین ہے جس پر حکومت نے 2013 میں پابندی عائد کر دی تھی۔

اس بارے میں حکومتی عہدیداروں نے بات کرنے سے احتراز کیا۔

مصر میں ماضی میں بھی صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے متعلق حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی باضابطہ اجازت نامے کے بغیر کام کر رہے تھے۔ جس ویب سائٹ کیے لئے باسمہ کام کرتی ہیں اس کے لیے بھی مصر میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

مصر میں میڈیا اداروں کو کام کرنے کے لئے لائیسنس لینا پڑتا ہے۔ تاہم لائسنس کی منظوری اکثر اوقات اس لئے روک دی جاتی ہے تاکہ ادارہ حکومت کے حق میں خبریں دینے پر تیار ہو جائے۔ کئی صحافیوں پر غلط خبریں دینے کا الزام عائد کر کے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ غلط خبر دینا مصر میں قابل سزا جرم ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ نے ستمبر میں ایک حراستی مرکز میں پولیس کے ہاتھوں ایک زخمی کی ہلاکت پر خبر دی تھی اور اب وہ اقصر گئی تھیں جہاں پولیس کے ہاتھوں ایک شخص کی مبینہ ہلاکت پر بے چینی پائی جاتی ہے۔ وہ اس بارے میں رپورٹ تیار کرنا چاہتی تھیں۔

مصر کے حکام صحافیوں کو آزادانہ کام کرنے سے روکنے اور انہیں گرفتار کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG