رسائی کے لنکس

logo-print

ہیومن رائٹس واچ کا مصر میں گرفتار مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ


مصر کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ سوشل میڈیا پر ایک کاروباری شخصیت کی ویڈیو اپیل کے نتیجے میں یہ احتجاج کی لہر سامنے آئی

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مصر میں احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو مصر میں صدر عبد الفتح السیسی کے خلاف اچانک مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد کئی مقامات پر فوج بھی تعینات کی گئی جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی۔

سکیورٹی اداروں نے احتجاج میں شریک کئی افراد کو حراست میں لیا۔ بعد میں گرفتار افراد کی تعداد 74 بتائی گئی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے مصر کی حکومت سے ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کے مطابق ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پر امن احتجاج کرنے والے شہریوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ سمیت کئی شہروں میں سامنے آنے والے احتجاج میں مظاہرین 'سیسی حکومت چھوڑ دو' اور 'حکومت کا خاتمہ' جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے مقامی لوگوں سے سامنے آنے والی اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کیا ہے کہ احتجاج کے بعد سادہ لباس اہلکار دارالحکومت کی گلیوں میں تعینات ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی اور شمالی امریکہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج کا کہنا تھا کہ صدر عبد الفتح السیسی کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس وقت تھا تاہم انہوں نے پر امن احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف انتہائی بے رحم حکمت عملی اختیار کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق ماضی کی طرح بے رحمانہ اقدامات سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ صدر عبد الفتح السیسی جمعے کے روز ہی امریکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ان کے روانگی کے ساتھ شروع ہونے والے احتجاج پر صدر کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مصر کے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو مصری حکومت کو یہ باور کروانا چاہیے کہ وہ عوام کے آزادی اظہار رائے اور احتجاج کے حق کا احترام کرے۔

جمعے کو سکیورٹی اداروں اور مظاہرین میں ہونے والے جھڑپوں کے بعد مصر کے دارالحکومت کے مشہور ترین تحریر اسکوائر پر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔

تحریر اسکوائر 2011 میں 'عرب بہار' میں طویل عرصے میں حکمران حسنی مبارک کے خلاف احتجاج میں مشہور ہوا تھا۔

مصر میں 2013 میں ایک قانون کے تحت ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ ملک بھر ہنگامی حالت کا نفاذ کیا گیا تھا۔ یہ ہنگامی حالت آج بھی ملک میں نافذ ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ایک مصری کاروباری شخصیت نے لوگوں کو حکومت اور عبد الفتح السیسی کے خلاف احتجاج کے لیے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کی۔

تعمیرات کے کاروبار سے وابستہ مصری شخصیت محمد علی اس وقت اسپین میں جلاوطن ہیں جہاں سے وہ سوشل میڈیا پر حکومت اور السیسی کے خلاف ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔

'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق محمد علی کی ایک ویڈیو رواں ماہ کے شروع میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ صدر عبد الفتح السیسی اور مصر کی فوج بدعنوانی میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔

پولیس ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے شاہراہوں پر گشت کر رہی ہے جو حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں
پولیس ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے شاہراہوں پر گشت کر رہی ہے جو حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں

دوسری جانب مصر کے صدر عبد الفتح السیسی نے محمد علی کے الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں کی ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اپنی قوم اور عسکری ادارے سے مخلص اور وفادار ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کے اسپین میں جلا وطن کاروبار شخص محمد علی نے جمعے کی صبح ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی جس میں انہوں نے ملک کے مشہور فٹبال کپ 'ایجپشن سپر کپ' کے فائنل کے بعد لوگوں کو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر زور دیا تھا۔

حکومت نے اس فٹبال کپ کے فائنل کے موقع پر سکیورٹی کے بھر پور انتظامات کیے تھے اس کے باوجود ملک کے کئی شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاج سامنے آیا۔

خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مصر میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف سکیورٹی اداروں نے سخت اقدامات کیے ہوں۔

'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق مصر کے صدر عبد الفتح السیسی کے دور اقتدار میں مخالفین، سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں، مشہور بلاگرز سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ تین جولائی 2013 کی فوجی بغاوت سے قبل مصر پر برسرِ اقتدار 'اخوان المسلمون' ملک کی سب سے منظم اور بڑی جماعت تھی جس نے 2011 میں سابق آمر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے مختلف سطح کے تمام پانچ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

معزول صدر محمد مرسی کی موت قید کے دوران ہوئی۔ اخوان المسلمون نے ان کی موت کو قتل قرار دیا تھا — فائل فوٹو
معزول صدر محمد مرسی کی موت قید کے دوران ہوئی۔ اخوان المسلمون نے ان کی موت کو قتل قرار دیا تھا — فائل فوٹو

لیکن اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج کی محمد مرسی کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے 'اخوان المسلمون' کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف ملک بھر میں سخت کریک ڈاؤن جاری رہا جس میں کئی ہزار افراد مارے گئے۔

مصر کی عبوری حکومت اخوان المسلمون کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرچکی ہے جب کہ معزول صدر سمیت تنظیم کی تمام قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں قید ہوئے اور مختلف الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

معزول کیے جانے والے سابق صدر محمد مرسی جون میں قید کے دوران انتقال کر گئے تھے۔

عدالت میں پیشی کے دوران وہ اچانک بے ہوش ہو کر گر گئے تھے۔ بعد ازاں ان کا انتقال ہو گیا۔

محمد مرسی جدید مصر کی تاریخ کے پہلے غیر فوجی اور جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے صدر تھے جنہیں فوجی جنتا نے اقتدار میں آنے کے صرف ایک سال بعد ہی برطرف کردیا تھا۔

جدید مصر کی تاریخ میں مرسی واحد جمہوری صدر تھے — فائل فوٹو
جدید مصر کی تاریخ میں مرسی واحد جمہوری صدر تھے — فائل فوٹو

مرسی کے انتقال پر کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا تھا جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ان کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ مصر کی سب سے منظم جماعت 'اخوان المسلمون کو 2013 میں فوجی حکومت نے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے السیسی پر اپنے ملک میں لبرل اور اسلام پرست دونوں ہی قسم کے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مزمت کرتے رہے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے کبھی کسی قسم کی نرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG